نئی دہلی، 4 اپریل (یو این آئی) آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ سمیت تمام ملی تنظیموں اور ملک کے تمام مسلمانوں اور انصاف پسند شہریوں کے سخت اعتراض کے باوجود وقف ترمیمی بل2024 لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرانے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل2024 کا منظور ہوجانا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لئے سیاہ باب اور کلنک ہے ۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں الزام لگایا کہ بر سر اقتدار طبقہ طاقت کے نشے میں مدہوش ہوکر آگے بڑھ رہا ہے اور اپنی غلطیوں وخامیوں کو چھپانے کے لئے ملک میں منافرت کا ماحول قائم کر رہا ہے جس کا ایک حصہ وقف ترمیمی بل بھی ہے، مسلمانوں کی ہمدردی کے نام پر لایا گیا یہ قانون مسلمانوں کے لئے ناقابلِ قبول ہے اور وقف جائیدادوں کے لئے تباہ کن بھی! افسوس کی بات ہے کہ حکومت وقت نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی،اسی طرح اپوزیشن پارٹیز کے ارکان پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کی بات بھی نہیں سنی، ایک جمہوری ملک میں یہ آمرانہ رویہ نا قابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس پر ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ ملک گیر احتجاج کی راہ ہموار کرے گا اور بھرپور تیاری کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کرےگا، قانونی کارروائی کی تیاری اور احتجاج کے سلسلے میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، عنقریب اس کا اعلان کر دیا جائے گا اور پوری قوت کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن مگر مسلسل اور مضبوط احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے انصاف پسند شہریوں سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ بورڈ کے اعلان کا انتظار کریں اور جب احتجاج کے لئے آوازدی جائے پوری طاقت کے ساتھ اس میں شامل ہوں تاکہ حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور اس قانون کی واپسی کا دروازہ کھل سکے۔
مولانا مجددی نے کہا کہ ہم یہ واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ وقف ترمیمی بل اپنے مشمولات کے اعتبار سے نہایت نقصان دہ اور تباہ کن ہے اس کی وجہ سے بہت سی دشواریاں اور مسائل کھڑے ہو جائیں گے اس لئے بہر صورت اسے حکومت کو واپس لینا چاہئے۔
لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 کے پیش ہونے کے بعد اپوزیشن پارٹیز کے ممبران پارلیمنٹ نے جس بیدار مغزی، تیاری اور احساس ذمےداری کے ساتھ اس بل کی مخالفت کی اور مسلمانوں کے موقف کو واضح کیا وہ خوش آئند بات ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وقف ترمیمی بل 2024 کی مخالفت کرنے والی تمام اپوزیشن پارٹیز اُن کے سربراہان اور ارکان پارلیمنٹ کا شکر گزار ہے اور ان کے عمل و اقدام کی تحسین کرتا ہے اور اُمید رکھتا ہے کہ وہ آئندہ بھی وقف ترمیمی بل کو روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی تمام کوششوں میں شانہ بشانہ شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح بی جے پی کی حلیف پارٹیز اور اُن کے سربراہان خاص طریقے پر نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو،چراغ پاسوان اور جینت چودھری نے اس سلسلے میں جو کردار نبھایا ہے اور جس طرح مسلمانوں کو چھوڑ کرحکومت وقت کا ساتھ دیا ہے وہ نہایت درجہ تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں ان کے رخ اور رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مسلمانوں نے ان حضرات کی سیکولر شبیہ کی وجہ سے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے لیکن ان لوگوں نے جس طرح مسلمانوں کو دھوکہ دیا اسے کبھی بھلایا نہیں جائےگا اور ہر حال میں انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ ان پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لئے بھی غور کرنےکا مقام ہے کہ اس بے وفائی کے بعد ان کا رد عمل کیا ہونا چاہئے اور بہ حیثیت مسلمان انہیں کیا راستہ اپنانا چاہئے، ملت کو چھوڑ کر سیاسی مفادات کی پاسداری کرنا گھناؤنا عمل ہے۔
مولانا مجددی نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ کسی بھی دباؤ دھمکی یا غلط رویے اور طرز عمل کی وجہ سے بورڈ اپنے مطالبات سے دست بردار نہیں ہوگا۔ وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں جب اور جس طرح کی قربانی درکار ہوگی پیش کی جائے گی اور اس لڑائی میں بورڈ تنہا نہیں ہوگا بلکہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
یو این آئی۔ ع ا۔