NationalPosted at: Jul 10 2026 4:22PM انسان - جنگلی حیات ٹکراؤ نہیں، بقائے باہمی اور ہم آہنگی بنے ماحولیاتی استحکام کا بنیادی منتر: بھوپیندر یادو

نئی دہلی، 10 جولائی (یو این آئی) ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپیندر یادو نے انسان - جنگلی حیات ٹکراؤ کے ایکسی لینس سینٹر اور انسان-جنگلی حیات ٹکراؤ پر قومی پورٹل کی شروعات کرتے ہوئے انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے بجائے بقائے باہمی اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہی ماحولیاتی استحکام کا بنیادی منتر ہونا چاہیے۔
مسٹر یادو نے جمعہ کو کوئمبٹور میں وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا-سالم علی پرندوں کی سائنس اور قدرتی تاریخ کے مرکز میں انسان-جنگلی حیات تصادم کے ایکسی لینس سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مسکن کے بکھراؤ، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے انسان-جنگلی حیات تصادم ملک کے بڑے تحفظ اور ترقی سے جڑے چیلنجوں میں شامل ہو گیا ہے۔ ایسے میں مسئلہ پر مرکوز نہیں بلکہ حل پر مرکوز نقطہ نظر اپناتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی اقدامات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے مطابق قائم کیا گیا یہ ایکسی لینس سینٹر انسان-جنگلی حیات تصادم کے سائنسی اور شواہد پر مبنی انتظام کے لیے تحقیق، اختراع، پالیسی تعاون، صلاحیت سازی اور بہترین طریقوں کے پھیلاؤ کا قومی مرکز بنے گا۔ محفوظ جنگلات کے باہر شیروں، چیتے اور ہاتھیوں سے جڑے تصادم کے مؤثر انتظام کے لیے پالیسی سازی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں خطے کے لحاظ سے اور مخصوص انواع کے متعلق بیداری مہم چلانا ضروری ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں پھیلا ہوا خوف کم ہوگا اور بقائے باہمی کا جذبہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے تمام ریاستی محکمہ جنگلات سے انسانی بستیوں اور فصلوں کو نقصان سے بچانے کے لیے فعال احتیاطی تدابیر اپنانے، مقامی برادریوں کے ساتھ تال میل بڑھانے اور تحفظ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔
مسٹر یادو نے اس موقع پر انسان-جنگلی حیات تصادم پر قومی پورٹل کا آغاز کیا، جسے ملک بھر میں تصادم سے متعلق اعداد و شمار کے انتظام، علم کے تبادلے اور فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ’ہندستان میں انسان-جنگلی حیات تصادم کی موجودہ صورتحال: ایک جائزہ‘ کے عنوان سے اشاعت کا پہلا ایڈیشن بھی جاری کیا۔ قومی ورکشاپ میں انسان-ہاتھی تصادم، شیر، چیتے اور ببر شیر سے جڑے انسان-جنگلی حیات تصادم اور ٹیکنالوجی و اختراع پر مبنی حل جیسے موضوعات پر ماہرین نے تبادلہ خیال کیا۔ ورکشاپ سے حاصل ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر قومی سطح پر انسان-جنگلی حیات تصادم کے انتظام کی حکمت عملیوں کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں پہل کی جائے گی۔
وزارت میں وزیر مملکت کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کی کامیابی کے ساتھ انسان اور جنگلی حیات کا رابطہ بڑھا ہے، جس سے سماجی و اقتصادی چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے تحفظ اور ترقی کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے طویل مدتی حل تیار کرنے پر زور دیا۔
یو این آئی۔ ایف اے