NationalPosted at: Mar 3 2026 7:16PM خلیجی جنگ نے ہندوستان کی توانائی کی شہ رگ کو جھنجھوڑا، 100 ڈالر فی بیرل تیل کا خطرہ

(یواین آئی اسپیشل) جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 3 مارچ (یواین آئی) ہندوستان کی وہ کمپنیاں جو ایل این جی استعمال کرتی ہیں، سپلائی میں کٹوتی اور قدرتی گیس کی بلند قیمتوں کے لیے تیار ہو رہی ہیں یہ گیس ان کے ٹربائنز، آرک فرنسز، اسمیلٹرز اور دیگر بھاری مشینری کو چلانے کے ساتھ ساتھ کھاد اور پیٹرو کیمیکل کمپنیوں کے لیے فیڈ کے طور پر استعمال ہوتی ہے قطر، جو ہندوستان کی ایل این جی سپلائی کا 40 فیصد سے زیادہ فراہم کرتا ہے، نے پیر کو ایرانی ڈرون حملوں کے بعد اپنے راس لفان کمپلیکس میں مائع قدرتی گیس کی سہولتیں بند کرنے کا اعلان کیا۔
وہیں ویری لارج آئل ٹینکرز (وی ایل سی سی) کے لیے شپنگ قیمت، جو 20 لاکھ بیرل تیل مغربی ایشیا سے ہندوستان، جاپان، کوریا اور چین لے جا سکتے ہیں، ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے: 423,736 امریکی ڈالر، جو 94 فیصد زیادہ ہے۔
لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے مطابق خلیج میں جنگ ہندوستان کو ایک پرانے لیکن اب تک حل نہ ہونے والے مخمصے کا سامنا کروا رہی ہے کہ کس طرح تیل سے مالا مال مغربی ایشیا میں جنگ کے دوران اپنی توانائی کی شہ رگ کو محفوظ بنایا جائے۔