Monday, Dec 8 2025 | Time 13:07 Hrs(IST)
National

یو این آئی اینالیسز ہندوستان کی ڈرائیو پر ٹیکس کا بوجھ: ٹیکس، سیس وغیرہ نے نقل و حرکت اور امنگوں کو نئی شکل دی

از: راجیونرائن
لاکھوں ہندوستانیوں کے لیے جو ایک کار خریدنے کا خواب دیکھ رہےہیں، ان کا دل پٹرول پمپ یا سروس سینٹر سے نہیں، بلکہ شوروم کے ڈیسک سے ہی ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے کار کی ’’ سابقہ شو روم قیمت‘‘  جو بظاہر قابل استطاعت لگتی ہے اور خریداروں کو شوروم تک کھینچ لاتی ہے — شاذونادر ہی وہ حتمی قیمت ہوتی ہے جس پر گاڑی واقعی ملتی ہے۔ ایک کار جس کی قیمت 8.5 لاکھ روپے دکھائی جاتی ہے، وہ ٹیکس، رجسٹریشن، انشورنس اور دیگر فیسیں شامل ہونے کے بعد 11 لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتی ہے — یعنی تقریباً 30 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں فی کس آمدنی تقریباً 2.5 لاکھ روپے کے آس پاس ہے، یہ اضافہ صرف ’زیادہ‘ نہیں بلکہ ہوش رباہے۔
“یہ صرف ٹیکس کا نظام نہیں، بلکہ ٹیکس کا انبارہے،” ایس اینڈ پی گلوبل موبیلیٹی کے آٹوموٹیو فارکاسٹنگ ڈائریکٹر پنیت گپتا کے مطابق۔ “ایک خریدار دراصل دو کاریں خریدتا ہے — ایک اپنے لیے، اور ایک ریاست کے لیے۔”
قانونی فیسیں اور ٹیکس شو روم کی سابقہ قیمت میں 25 سے 40 فیصد تک اضافہ کر سکتے ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ گاڑی کا ماڈل کیا ہے، ایندھن کی قسم کون سی ہے، اور کس ریاست میں رجسٹریشن ہو رہی ہے۔
جو بظاہر ایک سادہ خریداری کا فیصلہ نظر آتا ہے، وہ لمحوں میں مالیاتی جیومیٹری کا سبق بن جاتا ہے۔ جی ایس ٹی،کمپنسیشن سیس، ریاستی روڈ ٹیکس، انشورنس، رجسٹریشن، فاسٹ ٹیگ، لاجسٹکس اور ہینڈلنگ فیس — یہ سب بنیادی قیمت پر تہہ در تہہ بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ خواہش اور ملکیت کے درمیان نفسیاتی فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور بعض اوقات ہمیشہ کے لیے۔
ہندوستان میں گاڑیوں پر جی ایس ٹی کا ڈھانچہ زیادہ تر دوسرے صارفی شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور درجہ بند ہے۔ مسافر گاڑیوں پر حالیہ کمی کے بعد 18 فیصد بنیادی جی ایس ٹی عائد کیا جاتا ہے، جس کے اوپر ایک کمپنسیشن سیس لگایا جاتا ہے ، جو گاڑی کی لمبائی، انجن کے سائز اور کیٹیگری پر منحصر ہوتا ہے۔ چار میٹر سے کم لمبائی والی چھوٹی پٹرول کاریں جن کے انجن 1,200 سی سی سے کم ہوں، ان پر ایک فیصد سیس لگتا ہے، جبکہ 1,500 سی سی سے کم ڈیزل انجن والی کاروں پر 3 فیصد سیس عائد ہوتا ہے۔ بڑی یا پرتعیش گاڑیوں پر یہ شرح 22 فیصد تک جا سکتی ہے۔
ٹو وہیلرز (دو پہیہ گاڑیوں) پر، قیمت یا استعمال کی نوعیت سے قطع نظر، 350 سی سی تک کے انجن کے لیے جی ایس ٹی 2.0 کے تحت 18 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے، جبکہ طاقت ور بائیکس کے لیے یہ شرح 40 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیلیوری بوائے کی 100 سی سی اسکوٹر پر بھی وہی جی ایس ٹی شرح عائد ہوتی ہے
جو ہندوستان کی ایک زمانے کی پسندیدہ بائیک رائل انفیلڈ بُلٹ پر لگتی ہے۔
ریاستی سطح پر عائد کیے گئے ٹیکس ،اس ڈھانچے میں ایک اور تہہ کا اضافہ کرتے ہیں، جہاں روڈ ٹیکس مختلف ریاستوں میں گاڑی کی قیمت کے 6 فیصد سے لے کر 15 فیصد سے زیادہ تک ہو سکتا ہے۔ رجسٹریشن اور آر ٹی او چارجز اضافی مستقل اور متغیر اخراجات ہوتے ہیں، جو گاڑی کی اعلان شدہ قیمت کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔ انشورنس پریمیم — خاص طور پر وہ جامع پالیسیز جن میں تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی شامل ہوتی ہے ، مزید مالی بوجھ بڑھاتی ہیں۔ یہ پریمیم ہر سال مرمت کے بڑھتے اخراجات اور پرزوں کی مہنگائی کے مطابق ازسرِنو طے کیے جاتے ہیں۔
ای وائی میں پارٹنر اور آٹو پریکٹس لیڈر عبدالمجید کہتے ہیں کہ “جی ایس ٹی کا وعدہ سادگی کا تھا، لیکن آٹو ٹیکسیشن اب بھی بہت زیادہ ہے، کم نہیں۔ درجہ بندیاں اور کیٹیگریاں نہ صرف قیمتوں پر اثر ڈالتی ہیں بلکہ گاڑیوں کے انجینئرنگ فیصلوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔”
واقعی، گاڑی بنانے والی کمپنیاں اکثر اپنے ماڈلز کو دوبارہ تشکیل دیتی ہیں تاکہ وہ کم ٹیکس والے زُمرے میں آ سکیں۔
گاڑیوں کو جان بوجھ کر 4 میٹر کی حد سے نیچے رکھا جاتا ہے، ڈِکی کم کی جاتی ہے، انجن چھوٹے کیے جاتے ہیں اور پلیٹ فارمز کو نئے انداز میں ڈھالا جاتا ہے — یہ سب اکثر صارف کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ ٹیکس کے حساب سے پوزیشننگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ مالیاتی درجہ بندی کا اثر صارف کی پسند جتنا یا اُس سے زیادہ پڑتا ہے۔
ہندوستان میں گاڑی کا مالک بننا محض خریداری نہیں بلکہ نئے چارجز کی ایک رکنیت لینے کے مترادف ہے۔
سب سے نمایاں دہرایا جانے والا خرچ ایندھن ہے، جس کی قیمت میں مرکزی ایکسائز ڈیوٹی اور ریاستی ویٹ شامل ہوتے ہیں — یہ دونوں ریٹیل ایندھن کی قیمت کا 45 سے 55 فیصد تک حصہ بن سکتے ہیں۔ ایندھن کے علاوہ، گاڑی کی ملکیت کے ساتھ کئی دوسرے اخراجات جڑے ہیں: ٹول ٹیکس، پارکنگ فیس، آلودگی سرٹیفیکیٹ، انشورنس کی تجدید، اور مرمت یا مینٹیننس کی لاگت — جو اب مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ نئی گاڑیاں سینسرز اور الیکٹرانک نظاموں سے بھرپور ہوتی ہیں۔
اسپیئر پارٹس اور کمپوننٹس — جن پر عام طور پر معیاری جی ایس ٹی شرحیں لاگو ہوتی ہیں — نے گاڑیوں کی معمول کی مرمت کو بھی مہنگا بنا دیا ہے۔ اب ایک ہلکی سی ڈینٹ یا سینسر کی خرابی کو درست کرانے میں اتنا خرچ آ جاتا ہے، جتنا دس سال پہلے پوری سروس سائیکل پر آتا تھا۔
اخراج کے ضوابط پر پورا اترنے کی بھی اپنی قیمت ہے۔ بی ایس۔6 معیار میں تبدیلی کے لیے زیادہ صاف ایندھن پیچیدہ آفٹر ٹریٹمنٹ سسٹمز کیٹالٹک کنورٹرز اور سافٹ ویئر ری کیلِبریشن کی ضرورت پڑی۔ سن 2023 میں نافذ کیے گئے "ریل ڈرائیونگ ایمیشن ( آر ڈ ای) نارمز" نے کمپنیوں کو مجبور کیا کہ وہ گاڑیوں کے حقیقی سڑکوں پر اخراج کی مسلسل نگرانی کرنے والے نظام لگائیں۔ اس سے ہر گاڑی پر تقریباً 30,000 سے 80,000 روپے تک اضافی لاگت آئی — جو گاڑی کے سسٹم کی پیچیدگی پر منحصر ہے۔
یہ انجینئرنگ میں کی گئی بڑی پیش رفتیں بلاشبہ ہوا کے معیار اور انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں —
لیکن ان کا خرچ بالآخر صارف ہی برداشت کرتا ہے۔ ہندوستان نے صاف اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب خریداروں کو راغب کرنے کے لیے الیکٹرک اور ہائبرڈ پاور ٹرینز پر ترغیبات دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ تاہم، اس عمل میں ایک مالی عدم توازن پیدا ہو گیا ہے — جہاں پریمیئم طبقے کو ٹیکس میں نرمی ملتی ہے،
جبکہ عام مارکیٹ کے خریداروں پر زیادہ مالی بوجھ پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کا ہندوستانی آٹو بازار ایسا بن گیا ہے
جہاں چھوٹی یا انٹری لیول گاڑیاں خریدنے والے عام لوگ بالواسطہ طور پر امیر طبقے کی "گرین" تبدیلی کو سبسڈی فراہم کر رہے ہیں۔
مالی دباؤ نے صارفین کے رویّے کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ جو لوگ پہلے بار کار خریدنے والے کہلاتے تھے —
اور جو کبھی مارکیٹ کی ترقی کے اصل محرک ہوا کرتے تھے — اب قیمتوں کے معاملے میں جھجک دکھا رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ، گاڑی بدلنے کا دورانیہ بھی لمبا ہو گیا ہے۔ اب لوگ پہلے کی طرح پانچ سال میں نئی گاڑی نہیں لیتے،
بلکہ اوسطاً سات سے آٹھ سال تک پرانی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اس رجحان نے گاڑیوں کی فروخت کی رفتارکو کم کر دیا ہے اور اس کا اثر معاون صنعتوں جیسے ٹائرز اور ایکسسریزپر بھی پڑا ہے۔
استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ لیزنگ ماڈلز اور سبسکرپشن پر مبنی ٹرانسپورٹ سروسزمیں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے — یہ سب اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہیں جو نئی گاڑیوں کی فروخت میں سست روی کے باعث پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ متبادل ذرائع فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ عارضی تدابیر ہیں، کوئی پائیدار حل نہیں۔ ایک آٹو ریٹیل ایگزیکٹو نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ “جب نقل و حرکت جیب کے لیے ایک برداشت کا امتحان بن جائے، تو اختیاری خرچ گھٹ کر مجبوری خرچ بن جاتا ہے۔” چھوٹے شہروں والے ہندوستان میں،ذاتی نقل و حرکت کی بڑھتی لاگت کے اثرات صرف سہولت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ سماجی و معاشی نتائج بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہی لاگت روزگار کے مواقع، تعلیم کے انتخاب، اور گھریلو پیداواری صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس لحاظ سے، گاڑی کی قیمت صرف ایک مشین کی قیمت نہیں — یہ مواقع کی قیمت بھی ہے۔ کبھی کار ہندوستان میں امنگ کی سیڑھی تھی، لیکن آج یہ خطرہ بن چکی ہے کہ یہ محصور خواب میں بدل جائے — جہاں ٹیکس، تعمیلی اخراجات
اور خریداری کی حدیں نے اسے عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔
(مصنف ایک آٹو کے شوقین اور سینئر صحافی ہیں۔مضمون میں پیش کیے گئے خیالات اُن کے ذاتی ہیں۔)

خاص خبریں
حیدرآبادمیں انڈیگو کے طیاروں کا بحران جاری، کئی فلائٹس منسوخ

حیدرآبادمیں انڈیگو کے طیاروں کا بحران جاری، کئی فلائٹس منسوخ

حیدرآباد8 دسمبر(یواین آئی) انڈیگو میں بحران مسلسل جاری ہے اور مسلسل ساتویں دن بھی کئی فلائٹس منسوخ کی گئی ہیں۔

...مزید دیکھیں
شیئر بازار: ابتدائی کاروبار میں گراوٹ

شیئر بازار: ابتدائی کاروبار میں گراوٹ

ممبئی، 08 دسمبر (یو این آئی) گھریلو شیئر بازاروں میں پیر کے روز ابتدائی کاروبار میں گراوٹ درج کی گئی۔

...مزید دیکھیں
کشمیر میں سردیوں کا زور تیز، سری نگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ

کشمیر میں سردیوں کا زور تیز، سری نگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ

سری نگر، 8 دسمبر (یو این آئی) وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت مسلسل نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے کے باعث لوگوں کو ٹھٹھرتی سردیوں سے کوئی راحت نصیب نہیں ہو رہی ہے۔

...مزید دیکھیں
سری نگر کے منور آباد علاقے میں شبانہ آگ، مینوفیکچرنگ یونٹ اور 12 دکانیں خاکستر

سری نگر کے منور آباد علاقے میں شبانہ آگ، مینوفیکچرنگ یونٹ اور 12 دکانیں خاکستر

سری نگر، 8دسمبر(یو این آئی) شہر کے منور آباد علاقے میں گزشتہ شب اچانک بھڑک اُٹھی آگ نے ایک مینوفیکچرنگ یونٹ اور کم از کم بارہ دکانوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔

...مزید دیکھیں
سو کروڑ کے کلب میں شامل ہوئی رنویر سنگھ کی فلم 'دھُرندھر'

سو کروڑ کے کلب میں شامل ہوئی رنویر سنگھ کی فلم 'دھُرندھر'

ممبئی، 8 دسمبر (یو این آئی) بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم 'دھُرندھر' نے ہندستانی مارکیٹ میں تین دنوں میں 103 کروڑ روپے کی کمائی کر لی ہے۔

...مزید دیکھیں

عرب لیگ نے سوڈان کے جنوبی کردفان میں ڈرون حملے کی مذمت کی

قاہرہ، 8 دسمبر (یو این آئی) عرب لیگ نے اتوار کو سوڈان کی ریاست جنوبی کردفان کے شہر کالوگی میں شہریوں کے قتل کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

...مزید دیکھیں
گوا آتشزدگی پر صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس، راحت کی رقم کا اعلان

گوا آتشزدگی پر صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس، راحت کی رقم کا اعلان

نئی دہلی، 7 دسمبر (یو این آئی) صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے گوا کے ارپورا میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعے پر اتوار کے روز گہرے رنج و غم ظاہر کیا۔

...مزید دیکھیں
یواین آئی۔ م س." /> یواین آئی۔ م س." />

تازہ سرحدی جھڑپ میں تھائی فوجی ہلاک

08 Dec 2025 | 12:33 PM

بنکاک، 8 دسمبر (یو این آئی) کمبوڈیا کے ساتھ تھائی لینڈ کی متنازع سرحد پر ہوئی جھڑپ میں ایک تھائی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ آسیان کے دو ممبران جن کی طویل سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، ان کے درمیان ابھرتے ہوئے تنازعہ نے ایک بار پھر تناؤ کو بڑھا دیا ہے، یہ تنازعہ دونوں ممالک کے مابین مہینوں سے چل رہا ہے۔.

تاریخ میں آج کا دن

08 Dec 2025 | 8:50 AM

(9 دسمبر کی اشاعت کے لئے جاری)نئی دہلی، 8 دسمبر (یو این آئی) ہندوستان اور عالمی تاریخ میں 9 دسمبر کے اہم واقعات میں شامل ہیں: .

پرسنا کرماکر تین آخری

08 Dec 2025 | 12:40 PM

بہت سے کھلاڑیوں میں جنہوں نے دہلی میں تاریخ رقم کی، پرسنتا کرماکر بھی شامل تھے۔ آج تک، کرماکر کا 50 میٹر فری اسٹائل میں جیتا گیا کانسے کا تمغہ ہندوستان کا کامن ویلتھ گیمز میں تیراکی کا واحد تمغہ ہے۔ ان کی پیدائش8 دسمبر 1980 میں کلکتہ، مغربی بنگال میں ہوئی۔ .

پَوِتر شہر مُلتائی میں ترقیاتی کام تعطل کا شکار، عقیدت مندوں میں شدید غصہ

08 Dec 2025 | 12:51 PM

بیتول، 08 دسمبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے مُلتائی کو ’’پَوِتر نگری‘‘ کا درجہ ملے ہوئے ایک سال گزر چکا ہے لیکن اس دوران مطلوبہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ نگر پالیکا پریشد مُلتائی کی طرف سے مختلف محکموں کو بھیجی گئی تجاویز اور خطوط پر نہ تو کوئی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سطح سے کوئی جواب ملا ہے۔ محکموں کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے طویل عرصے سے تعطل کا شکار ان کاموں کے سلسلے میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ عقیدت مندوں میں بھی ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ .