OthersPosted at: Apr 21 2026 4:29PM اروند کیجریوال کی بڑی وارننگ: 'تامل ناڈو میں بی جے پی کی ایک سیٹ کا مطلب ہے اسی کا وزیر اعلیٰ

چنئی، 21 اپریل ( یو این آئی)عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے تامل ناڈو کے عوام کو بی جے پی اور این ڈی اے سے ہوشیار رہنے کی سخت وارننگ دی ہے ڈی ایم کے اتحاد کے حق میں دو روزہ انتخابی مہم کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ایسی پارٹی ہے جو ایک نشست ( سیٹ)جیتنے پر بھی اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اروند کیجریوال نے تامل ناڈو کے سیاسی شعور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیں گے، تاہم انہوں نے متنبہ کیا"فرض کریں، اگر بی جے پی یہاں ایک بھی نشست جیت جاتی ہے، تو وہ اپنا وزیر اعلیٰ لانے کا راستہ نکال لیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے بہار میں نتیش کمار کے ساتھ کیا۔ تامل ناڈو کے عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ این ڈی اے کا مطلب صرف بی جے پی ہے، اے آئی اے ڈی ایم کے اب مکمل طور پر ان کے زیر اثر ہے۔"
کیجریوال نے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے ساتھ روڈ شو کیا اور انہیں ایک ایسی آواز قرار دیا جو وفاقیت اور جمہوریت پر حملے کے خلاف قومی سطح پر مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے دہلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی بی جے پی کو موقع ملتا ہے، وہ تعلیم، صحت اور پانی جیسے عوامی فلاحی کاموں کو روک دیتی ہے۔
وزیر اعظم مودی کی جانب سے ڈی ایم کے پر 'موروثی سیاست' کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کیجریوال نے بی جے پی کو آئینہ دکھایا۔انہوں نے سوال کیا کہ امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ بی سی سی آئی میں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے راج ناتھ سنگھ اور دیگر بی جے پی لیڈروں کے بیٹوں اور بیٹیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر دیکھنا چاہیے۔
کیجریوال نے بی جے پی کو "سب سے زیادہ کرپٹ پارٹی" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کے وسائل وزیر اعظم کے دوستوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بی جے پی کے 'ڈبل انجن' حکومت کے نعرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں 30 سالہ اقتدار کے باوجود سڑکیں اور اسکول ابتر حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی بی جے پی اقتدار میں آتی ہے، ریاست کو تباہ کر دیتی ہے۔
یو این آئی۔م ا ع
تامل ناڈو میں 23 اپریل کو ہونے والے انتخابات سے قبل اروند کیجریوال اور تیجسوی یادو جیسی قومی شخصیات کی ایم کے اسٹالن کے حق میں مہم نے ریاست کے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔
یو این آئی۔م ا ع