NationalPosted at: Sep 2 2026 2:57PM بیچولیوں کی وجہ سے مہنگے داموں مل رہی ہے چینی: شوگر ملز فیڈریشن

نئی دہلی، 02 ستمبر (یو این آئی) کوآپریٹو شوگر ملز کی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے اور فیکٹری گیٹ پر قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین کو اس کا فائدہ نہ ملنے کی وجہ بیچولیے ہیں نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹو شوگر فیکٹریز کے صدر ہرش وردھن پاٹل نے یہاں ایک پروگرام سے الگ نیوز ایجنسی یو این آئی کے سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں چینی کی قیمتوں میں 18-19 فیصد کی کمی آئی ہے۔ اب فیکٹری گیٹ پر، یعنی ملوں کی فروخت کی قیمت، چینی کی قیمت 45-46 روپے فی کلوگرام ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ صارفین کے امور کے محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چینی کی اوسط خوردہ قیمت اب بھی 62 روپے اور تھوک قیمت 58 روپے فی کلوگرام ہے، مسٹر پاٹل نے کہا، ’’مل سے 45-46 روپے فی کلوگرام کی قیمت پر فروخت ہونے والی چینی میں نقل و حمل اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد صارفین کو یہ چینی تقریباً 50 روپے فی کلوگرام میں ملنی چاہیے۔ اگر بازار میں اس سے زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے تو یقیناً اس کے پیچھے بیچولیوں کا ہاتھ ہے۔‘‘
گرین انرجی سیمینار میں شرکت کے لیے یہاں آئے مسٹر پاٹل نے ایتھنول کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی ترغیبات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے، بلکہ اس کی قلت پیدا کی گئی تھی۔
ایک طرف شوگر ملز کی تنظیمیں قیمتوں میں اضافے کے لیے بیچولیوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں، تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے کی گئی جانچ میں کچھ شوگر ملوں میں اعلان کردہ ذخیرے سے زیادہ چینی موجود ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ حکومت نے بھی 28 اگست کو دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے۔
ملوں کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ چینی ذخیرہ کرنے کے سوال کو ٹالتے ہوئے مسٹر پاٹل نے کہا کہ نیا گنے کی پِسائی کا سیزن شروع ہونے والا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
ایتھنول کی وجہ سے گاڑیوں کو ہونے والے نقصان کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر پاٹل نے کہا کہ ای-10 ایندھن کے لیے تیار کی گئی گاڑیوں کو اس سے کچھ نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں، لیکن ای-20 گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول میں ایتھنول ملانے سے ایک طرف کسانوں کو فائدہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف پٹرولیم کی درآمد کم ہونے سے زرمبادلہ کی بچت بھی ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماحولیات کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے