NationalPosted at: Sep 2 2026 8:40PM آئندہ 7 تا 10 دن کے دوران چینی کی خردہ قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان: اسما،این ایف سی ایس ایف

نئی دہلی، 2 ستمبر (یو این آئی) ہندوستانی چینی کی صنعت نے ملک میں چینی کی کسی بھی قلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 7 سے 10 دنوں کے دوران خردہ قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے، انڈین شوگر اینڈ بایو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اسما) اور نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹو شوگر فیکٹریز (این ایف سی ایس ایف) نے مشترکہ طور پر ملک کو یقین دلایا ہے کہ ہندوستان میں چینی کی ملکی دستیابی مستحکم، مضبوط اور آنے والے تہواروں کے سیزن کے دوران ہر طرح کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
حکومت ہند کے ساتھ باہمی تعاون کے ذریعے چینی کے شعبے نے سپلائی کو مستحکم کیا ہے، ایکس مل قیمتوں میں چوٹی سے تقریباً 30 فی صد تک کی کمی لائی ہے اور ملکی تجارت میں کمی کی بے بنیاد افواہوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
این ایف سی ایس ایف کے صدر ہرش ور دھن پاٹل نے کہا کہ ملک کے پاس گھریلو کھپت کو پورا کرنے کے لیے اس وقت تک کے لیے کافی اسٹاک موجود ہے جب تک کہ آنے والے کرشنگ سیزن کی نئی چینی مارکیٹ میں نہیں آ جاتی۔
ہم مارکیٹ کی حالیہ صورتحال کو مکمل اقتصادی اور آپریشنل تناظر میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ 26-2025 کے سیزن کے زیادہ تر حصے میں ملوں نے پیداواری لاگت سے کافی کم قیمتیں حاصل کی ہیں، جہاں جون میں ملک بھر میں اوسط ایکس مل قیمتیں 39.5 سے 40.0 روپے فی کلو، جولائی میں 40.0 سے 40.5 روپے فی کلو اور اگست 2026 میں تقریباً 41 سے 41.5 روپے فی کلو کے قریب رہیں، جو کہ انڈسٹری کی اوسط پیداواری لاگت یعنی تقریباً 42 روپے فی کلو سے اب بھی کم ہیں۔ اگست کے تیسرے ہفتے میں قیمتوں کا 49 سے 50 روپے فی کلو تک جانا صرف 2 سے 3 لاکھ ٹن کی محدود مقدار پر لاگو ہوا تھا، جو کسی بھی طرح سے پورے سیزن کی معیشت یا غیر متوقع منافع کی عکاسی نہیں کرتا۔ کوٹے کے شفاف اجراء اور فوری ریگولیٹری کارروائیوں نے ایکس مل قیمتوں میں 30 فیصد کی کمی کی ہے اور صارفین کے تحفظ کے لیے اس اصلاح کا اثر خودرہ مارکیٹ پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اسما کے ڈائرکٹر جنرل دیپک بلانی نے کہا کہ سابق مل قیمتوں میں کمی کو تدریجی طور پر سپلائی چین کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے اور صارفین کو راحت پہنچانی چاہیے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مارکیٹ میں اگلے 7 سے 10 دنوں کے اندر نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔
قومی ترجیحات کے عین مطابق ہماری شوگر ملوں نے 27-2026 کے کرشنگ سیزن کے آغاز کو تقریباً 10 سے 15 دن پہلے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمل ناڈو اور کرناٹک میں جاری خصوصی کرشنگ کے ساتھ اس کے جلدی آغاز سے تہواروں کی مانگ سے قبل سپلائی میں نئی چینی کی براہ راست آمد یقینی ہو جائے گی۔ ہم اس پیداوار کو وزارت برائے امور صارفین، خوراک و عوامی تقسیم کے ذریعے مقرر کردہ پندرہ روزہ سیلز کوٹہ فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کر رہے ہیں، جس نے ستمبر 2026 کے پہلے پندرہ دن کے لیے 13 لاکھ میٹرک ٹن کا کوٹہ مختص کیا ہے۔ ہم ملکی سطح پر کسی بھی قسم کی قلت کے دعوؤں کو کے ساتھ مسترد کرتے ہیں۔ 26-2025 کے سیزن کے لیے ہندوستان کی خالص ملکی چینی کی پیداوار تقریباً 279 لاکھ ٹن رہی ہےجو کہ تقریباً 309 لاکھ ٹن کی کل پیداوار میں سے 30 لاکھ ٹن ایتھنول کے لیے مختص کرنے کے بعد حاصل ہوئی ہے جو کہ ہماری قومی ضرورت یعنی 280 سے 285 لاکھ ٹن کو آسانی سے پورا کرتی ہے۔ تہواروں کے سیزن میں داخل ہوتے ہوئے ستمبر 2026 کے اختتام تک ملک کے پاس تقریباً 35 لاکھ ٹن کا محفوظ اسٹاک موجود رہنے کا امکان ہے۔
اکتوبر کے اوائل کی پیداوار، ٹی آر کیو کے تحت 10 لاکھ ٹن کی ڈیوٹی فری درآمدی اجازت (جس میں سے تقریباً 8 لاکھ ٹن پہلے ہی مختص کی جا چکی ہے) اور حکومت کی جانب سے مزید 2 لاکھ ٹن خام چینی کی درآمد کی گنجائش کے ساتھ ساتھ 15 اکتوبر 2026 تک ریفائنرز کی طرف سے 3 سے 3.5 لاکھ ٹن کی اضافی سپلائی کی بدولت مارکیٹ میں چینی کا وافر اسٹاک موجود رہے گا۔ سب سے بڑھ کر انڈسٹری نے کسانوں کو تقریباً 1.10 لاکھ کروڑ روپے کی ادائیگی کر کے اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں، جو کہ گنے کے کل بقایا جات کا تقریباً 97 فی صد ہے اور اس سے گنے کے بقایا جات تاریخی طور پر کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ ہم تمام تاجروں اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قلت کی بے بنیاد افواہوں پر دھیان نہ دیں، کیوں کہ اسما اور این ایف سی ایس ایف تہواروں کے سیزن کے دوران مناسب قیمتوں پر چینی کی منظم اور بہتر سپلائی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، کیوں کہ خردہ قیمتیں بلندی سے تقریباً 5 فی صد کم ہو کر تقریباً 62 روپے فی کلو پر آ گئی ہیں اور ان میں مزید کمی کی توقع ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف