NationalPosted at: Apr 8 2026 6:52PM آئیے ہم مل کر اپنی ناری شکتی کو بااختیار بنائیں: وزیراعظم نریندر مودی

نئی دہلی، 8 اپریل (یو این آئی) آنے والے دنوں میں ہندستان تہواروں کے موسم سے سرشار ہوگا اور ملک کے ہر کونے میں جشن منایا جائے گا آسام کے لوگ رونگالی بیہو منائیں گے ، جب کہ اڈیشہ میں مہا بشوبا پنا سنکرانتی کا تہوار منایا جائے گا مغربی بنگال میں پوئیلا بوئیشاکھ بنگالی نیا سال خوش آمدید کہے گا اور کیرالہ میں وشو بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا۔ تمل ناڈو میں پتھنڈو کا جشن منایا جائے گا، جب کہ پنجاب اور شمالی ہندستان کے دیگر حصوں میں بیساکھی منائی جائے گی، جو امید اور مثبت سوچ کے جذبے کو فروغ دے گی۔ میں ہندستان اور دنیا بھر میں ان تمام لوگوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ، جو ان تہواروں کو منا رہے ہیں۔ میری دعاء ہے کہ یہ مبارک مواقع ہر کسی کی زندگی میں خوشی اور خوشحالی لے کر آئیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
مزید برآں، 11 اپریل کو ہم مہاتما پھولے کی 200ویں سالگرہ تقریبات کے جشن کا آغاز کریں گے اور 14 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو امبیڈکر جینتی پر راج عقیدت پیش کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ان خاص مواقع کے علاوہ جب تجدید کا جذبہ ہمارے دلوں اور ذہنوں کو بھر دیتا ہے، ہمارا ملک ایک اور تاریخی موقع سے ہمکنار ہو رہا ہے۔ یہ موقع ہے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادوں کو مزید مضبوط کریں اور مساوات اور شمولیت کے لیے اپنے اجتماعی عزم کی تصدیق کریں۔
16 اپریل کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ ایک اہم بل پر غور کیا جائے اور اسے منظور کیا جائے ، جو خواتین کے لیے ریزرویشن کو آگے بڑھاتا ہے۔ اسے محض ایک قانون سازی کی مشق قرار دینا اس کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔ یہ ہندستان کی کروڑوں خواتین کی امنگوں کا عکاس ہے۔ یہ اس اصول کی تصدیق بھی ہے ، جس نے طویل عرصے سے ہمارے تمدنی اقدار کی رہنمائی کی ہے کہ جب خواتین ترقی کرتی ہیں، تب ہی معاشرہ ترقی کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ خواتین ، ہندستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں۔ ان کی ملک کی ترقی میں شراکت وسیع اور انمول ہے۔ آج ہندستان ہر شعبے میں خواتین کی شاندار کامیابیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے لے کر کاروبار، کھیلوں سے لے کر مسلح افواج اور موسیقی سے لے کر فنون تک، خواتین ہندستان کی ترقی میں سرِ فہرست ہیں۔ برسوں کے دوران ، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ تعلیم تک بہتر رسائی، صحت کی دیکھ بھال میں بہتری، مالی شمولیت میں اضافہ اور بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی نے خواتین کی اقتصادی اور سماجی زندگی میں شمولیت کی بنیادیں مضبوط کی ہیں۔
پھر بھی، سیاست اور قانون سازی کی دنیا میں ، ان کی نمائندگی ہمیشہ معاشرتی کردار کے مطابق نہیں رہی۔ یہ خاص طور پر افسوسناک ہے کیونکہ جب خواتین انتظامیہ اور فیصلہ سازی میں شامل ہوتی ہیں تو وہ اپنے تجربات اور بصیرت کے ساتھ آتی ہیں ، جو عوامی معاملات سے متعلق بات چیت کو با معنی بناتے ہیں اور حکومت کی کارکردگی کے معیار کو بہتر کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ لازمی ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات اور آنے والے وقت میں مختلف ریاستوں کی اسمبلی انتخابات ، خواتین کے ریزرویشن کے تحت منعقد ہوں۔ دہائیوں کے دوران ، سابق حکومتوں کی جانب سے خواتین کو جمہوری اداروں میں ، ان کا جائز مقام دلانے کے لیے بار بار کوششیں کی گئی ہیں۔ کمیٹیاں بنائی گئیں، بل کے مسودے پیش کیے گئے لیکن وہ کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ تاہم، وسیع پیمانے پر اتفاق رہا ہے کہ قانون ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانی ضروری ہے۔ ستمبر ، 2023 ء میں، پارلیمنٹ نے اسی اتفاق رائے کے جذبے کے ساتھ ناری شکتی وندن ادھینیم منظور کیا۔ میں اسے اپنی زندگی کے سب سے خاص مواقع میں شمار کرتا ہوں۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کو یقینی بنانے کا یہ موقع ہمارے آئین کی روح کے ساتھ بھی گہرائی سے ہم آہنگ ہے۔ ہمارے آئین کے معمار ایسے معاشرے کا تصور رکھتے تھے ، جہاں مساوات نہ صرف آئینی طور پر موجود ہو بلکہ عملی طور پر بھی محسوس کی جائے۔ قانون ساز اداروں میں خواتین کی شمولیت کو مضبوط بنانا ، اس ویژن کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کریں ، جہاں ہر شہری کو ملک کے مستقبل کی تشکیل میں برابر کا موقع حاصل ہو۔
یہ ایسا لمحہ ہے ، جسے مزید موخر نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کی نمائندگی میں ہر تاخیر، دراصل ہماری جمہوریت کے معیار اور شمولیت کو مضبوط کرنے میں تاخیر ہے۔ دہائیوں سے، قانون ساز اداروں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا، اس پر بات ہوئی اور اس کی تصدیق کی گئی۔ اب کارروائی کو مؤخر کرنا ، اس عدم توازن کو مزید طول دینے کے مترادف ہوگا ، جسے ہم پہلے ہی تسلیم کرتے ہیں اور جسے درست کرنے کی ہماری صلاحیت موجود ہے۔ ایسے وقت میں ، جب ہندستان اعتماد اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، یہ ضروری ہے کہ ہمارے ادارے تمام شہریوں کی امنگوں کی عکاسی کریں، خاص طور پر ان کی ، جو ہماری آبادی کا نصف ہیں۔ بروقت اقدام نہ صرف طویل عرصے سے کیے گئے وعدوں کا احترام کرے گا بلکہ ترقی کے جاری رجحان کو بھی برقرار رکھے گا۔ یہ واقعی ایک تاریخی موقع ہے کہ ہم اپنی جمہوریت کو زیادہ نمائندہ، اثرپزیر اور مستقبل کے لیے تیار بنا سکیں۔
یہ لمحہ اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کسی ایک حکومت، جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ پورے ملک کے لیے اس قدم کی اہمیت کو تسلیم کرنے اور اسے عملی شکل دینے کے لیے یکجا ہونے کا موقع ہے۔ یہ وہ حق ہے ، جو ہم اپنی ناری شکتی پر رکھتے ہیں۔ اسی لیے خواتین کے لیے ریزرویشن کے بل کی منظوری وسیع ترین ممکنہ اتفاق رائے کی عکاسی کرنی چاہیے اور قومی مفاد کے تحت رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ ایسے مواقع ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمیں خود کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جمہوریت کی اصل طاقت ، اس کی ارتقاء پذیری اور وقت کے ساتھ زیادہ شمولیت پذیر بننے کی صلاحیت میں ہے۔
جب ہم اس تاریخی پارلیمنٹ اجلاس کے قریب پہنچ رہے ہیں تو میں تمام پارلیمنٹ کے اراکین سے، پارٹی خطوط سے بالاتر ہو کر، اپیل کرتا ہوں کہ ہندستان کی خواتین کے اس اہم قدم کی حمایت میں ایک ساتھ آئیں۔ آئیں ، اس موقع کو ذمہ داری اور مقصد کے جذبے کے ساتھ نبھائیں۔ آئیں ، ایسے انداز میں عمل کریں ، جو ہماری جمہوریت کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرے۔
آخر میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہندستان نے ہمیشہ یہ دکھایا ہے کہ قومی اہمیت کے معاملات میں جب ضرورت پڑتی ہے، یہ اختلافات سے بالا تر ہو کر اتحاد کے ساتھ عمل کر سکتا ہے۔ یہ ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ آئیں، ہم سب مل کر آگے بڑھیں، آئینی اقدار کو مضبوط کریں اور قومی ترقی کے لیے اپنی ناری شکتی کو بااختیار بنائیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف