InternationalPosted at: May 7 2026 11:51AM اسرائیل نے بیروت میں فضائی کارروائی کرتے ہوئے حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنایا
بیروت، 7 مئی (یو این آئی) اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیروت پر حملہ کر دیا اور حزب اللہ کی رضوان فورس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ ماہ جنگ بندی پر اتفاق کے بعد پہلی بار بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملہ کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ کارروائی میں حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ حملے میں مطلوبہ کمانڈر مارا گیا، تاہم اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات اور جنگ بندی عمل کے دوران لبنان میں حملے روکنے پر زور دیا تھا، جس کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا تھا۔
تاہم حالیہ حملے کو اس جنگ بندی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران دونوں کا کہنا ہے کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان، خصوصاً دریائے لیتانی کے جنوبی علاقوں میں موجود رہی اور کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیلی فوج پر گولہ باری اور مسلح ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں دریائے لیتانی کے شمالی علاقوں میں بھی شہریوں کو انخلا کی ہدایات جاری کی تھیں، جسے کارروائی کے دائرہ کار میں توسیع کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کسی اعلیٰ سطحی ملاقات کی بات کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔