OthersPosted at: Apr 21 2026 4:27PM مودی حکومت کے خلاف عوامی تحریک ہی واحد راستہ: محمد سلیم

کولکاتہ، 21 اپریل (یو این آئی) سابق رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کا قومی متبادل صرف کسانوں، مزدوروں، متوسط طبقے، نوجوانوں اور طلبہ کی تحریکوں سے ہی ابھر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ’’یہ کام ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر نہیں ہو سکتا، اس کے لیے سڑکوں پر اترنا ہو گا۔" کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے پولٹ بیورو ممبر مسٹرسلیم نے کہا کہ غیر بائیں بازو کی سیکولر اپوزیشن جماعتوں کی کمزوری اور عوامی مسائل اٹھانے میں ان کی ہچکچاہٹ، موجودہ حکومت کے خلاف جدوجہد میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے اسے "نو فاشسٹ رجحانات" کے خلاف لڑائی قرار دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ مرکزی حکومت "محنت کش طبقے پر حملے کر رہی ہے اور جمہوری دائرے کو محدود کر رہی ہے۔" خارجہ پالیسی پر بھی انہوں نے حکومت کو 'ناکام' قرار دیا۔ مسٹر سلیم نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل کے حوالے سے تسلسل نہیں دکھا پا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کبھی کبھی امید پیدا ہوتی ہے، لیکن اسے برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔ یہ کوئی ایک بار کا معاملہ نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک میں بھی لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، لیکن ہندوستان میں کچھ جماعتیں اس خدشے کے پیش نظر کھل کر نہیں بولتیں کہ اس سے سیاست تفرقہ انگیز ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بائیں بازو کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول، "بائیں بازو کی تحریک ہی لوگوں کے گزر بسر کے مسائل کو مرکز میں لا سکتی ہے۔"
انہوں نے تاہم تسلیم کیا کہ بائیں بازو کی جماعتیں کمزور ہوئی ہیں۔ مسٹر سلیم نے بائیں بازو کی حالیہ تحریکوں کا تذکرہ کرتے ہوئے 13 اپریل کی مزدور ہڑتال، متحدہ کسان تحریک اور 'آکروش یاترا' کا ذکر کیا، جو دہلی کے رام لیلا میدان میں اختتام پذیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بھلے ہی ان تحریکوں کو مرکزی دھارے کے میڈیا (مین اسٹریم میڈیا) میں جگہ نہیں ملتی، لیکن یہ امید کی کرن دکھاتی ہیں۔
انہوں نے وسیع تر بائیں بازو کی جمہوری اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، روپے کی قدر میں گراوٹ، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور 'نفرت کی سیاست' کے درمیان جمہوری اور سیکولر طاقتوں کو متحد ہونا ہو گا۔ مغربی بنگال کی سیاست پر مسٹر سلیم نے کہا کہ لیفٹ فرنٹ کے کمزور ہونے کا اثر پورے اتحاد پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اتحاد کے لیے ایک مضبوط محور ضروری ہوتا ہے اور سی پی آئی (ایم) نے پہلے یہ کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے ترنمول کانگریس پر الزام لگایا کہ اقتدار میں آنے کے بعد اس نے بائیں بازو کی جماعتوں پر حملے کیے اور پورے بائیں بازو کے ایکو سسٹم کو کمزور کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی پی آئی (ایم) کے کارکنوں پر ایک لاکھ جھوٹے مقدمات درج کیے گئے، جو عدالت میں ٹک نہیں سکے۔ لیفٹ فرنٹ کو بوجھ سمجھنے کے سوال پر مسٹر سلیم نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے تمام شراکت داروں کو لچکدار رویہ اپنانا ہو گا۔
یو این آئی۔ م ع