NationalPosted at: Jul 21 2026 8:41PM وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو پولیس نے لیا حراست میں

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کے کچھ دیگر رہنماؤں کو منگل کو وزیراعظم کی رہائش گاہ کے پاس دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے اچانک دھرنے پر بیٹھنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی دہلی پولیس نے وہاں کارروائی کی اور مسٹر گاندھی نیز دیگر کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تین گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلے ایک ڈرامائی واقعے میں مسٹر گاندھی کو حراست میں لیے جانے سے پہلے وزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے دھرنے کی جگہ پر جا کر ان سے دھرنا ختم کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس مسٹر گاندھی نیز ان کے ساتھ دھرنے میں شامل ہوئے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو کو وہاں سے ہٹا کر پولیس گاڑی میں دوسری جگہ لے گئی۔ اس دوران مسٹر گاندھی نے انہیں ہٹائے جانے کی مخالفت کی تو پولیس اہلکار انہیں اٹھا کر گاڑی تک لے گئے۔ کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نیز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو بھی پولیس وہاں سے ہٹا کر اپنی گاڑیوں میں لے گئی۔
اس سے پہلے مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں پیپر لیک معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے مظاہرین کے ساتھ دارالحکومت میں پولیس کی کارروائی کی مخالفت کرنے کے لیے اپنے دھرنے میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ مسٹر گاندھی اور پارٹی کے دیگر رہنما کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ سے مارچ کرتے ہوئے لوک کلیان مارگ واقع وزیراعظم رہائش گاہ کے قریب پہنچے تھے۔
مسٹر جتیندر سنگھ نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ اپوزیشن لیڈر مسٹر گاندھی نے ان کے ساتھ بات چیت کے دوران نیٹ کے امتحان اور اس سے جڑے معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے مان لیا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی بھی شرط رکھ دی۔ واضح رہے کہ دھرنے پر بیٹھے کانگریس کے رہنما وزیراعظم نریندر مودی نیز وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔ کانگریس رہنماؤں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر مظاہرے کے دوران نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائی کو نوجوانوں کے مستقبل پر حملہ بتاتے ہوئے حکومت سے جواب دہی طے کرنے اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔