Wednesday, Jul 22 2026 | Time 00:42 Hrs(IST)
Others

پرینکا گاندھی کا وزیر اعظم پر حملہ، کہا: ”ووٹ کا حق خطرے میں، ووٹروں کو دی جا رہی ہے رشوت“

پرینکا گاندھی کا وزیر اعظم پر حملہ، کہا: ”ووٹ کا حق خطرے میں، ووٹروں کو دی جا رہی ہے رشوت“

کٹیہار، 08 نومبر (یواین آئی) کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے سنیچر کو کٹیہار میں انتخابی جلسے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں وہی حق خطرے میں ہے  جس کے لئے مہاتما گاندھی نے آزادی سے پہلے جدوجہد کی تھی، یعنی عوام کے ووٹ کا حق کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی عوام سے ان کا ووٹ کا حق چھیننا چاہتے ہیں  انہوں نے کہا کہ ”پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی نے آئین کی چوری کرنے کی کوشش کی اور اب وہ آپ کے ووٹ کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سازش میں وزیر اعظم مودی، الیکشن کمیشن اور وزیر داخلہ امت شاہ بھی شامل ہیں۔“
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ”وعدہ خلافی“ کا جواب جمہوری طریقے سے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس سازش کا جواب مستقبل میں دینا ہوگا اور عوام کو اپنے حق کی حفاظت کرنی ہوگی۔
بہار میں برسر اقتدار قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ خواتین کو 10 ہزار روپے دینے کی اسکیم صرف انتخابات کے وقت ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”10-20 سال گزر گئے، لیکن آپ کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ اب انتخابات کے وقت یہ 10 ہزار روپے دے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کی رشوت ہے، جو آپ کے ووٹ کے بدلے دی جا رہی ہے۔“
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ یہ پیسے لے لیں، لیکن ووٹ سوچ سمجھ کر ڈالیں۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ”آپ کا ووٹ آپ کی بیٹیوں اور آپ کے مستقبل کے لئے ہے۔ اسے ضائع نہ کریں۔ یہ ووٹ ہی آپ کی امانت ہے۔“
کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی سیاست اب عوام کو اصل مسائل سے بھٹکانے اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”وزیر اعظم کی زبان دیکھئے، کٹا، قتل، اغوا جیسے الفاظ ان کی تقریروں میں سنائی دیتے ہیں۔ یہ ایک وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا۔ وہ روزگار، تعلیم، اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی بات نہیں کرتے۔“ انہوں نے کہا کہ بہار میں 20 سال سے این ڈی اے کی حکومت ہے، لیکن ترقی کی حالت عوام خود بہتر جانتی ہے۔
کانگریس لیڈر نے ریاست میں تعلیم اور روزگار کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ہر سال تقریباً 25 لاکھ نوجوان مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہوتے ہیں، لیکن پیپر لیک ہونے کی وجہ سے ان کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ کسانوں کی حالت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی غفلت کی وجہ سے نہ کم از کم امدادی قیمت ملتی ہے اور نہ ہی پیداوار کا صحیح نرخ۔
وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ ”مودی جی اپنے دو دوستوں اڈانی اور امبانی کو ملک کی دولت سونپ رہے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ دعوتوں میں شامل ہوتے ہیں، لیکن عوام کے دکھ درد میں کبھی ساتھ نظر نہیں آتے۔ غریبوں کے قرضے معاف نہیں ہوتے، لیکن اڈانی اور امبانی کے 16 لاکھ کروڑ روپے معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“
انہوں نے بہار میں بڑھتے جرائم پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ریاست میں جرائم تین گنا بڑھ گئے ہیں اور سب سے زیادہ ظلم دلتوں، اقلیتوں، عورتوں اور پسماندہ طبقات پر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں ”مافیاوں کی حکومت“ چل رہی ہے اور صرف باہر کے ٹھیکداروں کو ہی ترجیح دی جارہی ہے۔
معاشی پالیسیوں پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلوں نے چھوٹے صنعتی اداروں کو تباہ کر دیا، جس سے لاکھوں لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مجبور ہو کر بہار کے لوگ روزگار کی تلاش میں ہجرت کرتے ہیں، شوہر باہر جا کر ذلت سہتا ہے اور گھر پر عورتیں اکیلے تمام مشکلات برداشت کرتی ہیں۔ یہ بہار کی زرخیز مٹی کے ساتھ ناانصافی ہے۔
جلسے کے آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اب بہار میں تبدیلی لانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ تبدیلی اپنے مستقبل، اپنی مٹی اور آنے والی نسلوں کے لئے بہت ضروری ہے۔“
یواین آئی۔ قمر

خاص خبریں
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو پولیس نے  لیا حراست میں

وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو پولیس نے لیا حراست میں

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کے کچھ دیگر رہنماؤں کو منگل کو وزیراعظم کی رہائش گاہ کے پاس دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے اچانک دھرنے پر بیٹھنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی دہلی پولیس نے وہاں کارروائی کی اور مسٹر گاندھی نیز دیگر کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تین گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلے ایک ڈرامائی واقعے میں مسٹر گاندھی کو حراست میں لیے جانے سے پہلے وزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے دھرنے کی جگہ پر جا کر ان سے دھرنا ختم کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی۔

...مزید دیکھیں
طلبا کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے برلا سے ملے راہل

طلبا کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے برلا سے ملے راہل

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی اور کچھ دیگر پارٹیوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے منگل کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کر کے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑا سنگین موضوع ہے اور اس پر ایوان میں وسیع بحث ہونی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
نیٹ پیپر لیک معاملے کے خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا- مودی

نیٹ پیپر لیک معاملے کے خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا- مودی

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی مرکزی وزیرِ برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا، "نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) کے بارے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ گڑبڑ کی خبریں ملنے پر سرکار نے فوری کارروائی کی۔

...مزید دیکھیں
دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی

دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو سماجی کارکن سونم وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی عدالت نے تبصرہ کیا کہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ان کی جاری بھوک ہڑتال کی وجہ سے انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔

...مزید دیکھیں
طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب  : راہل

طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب : راہل

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی نے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہ کرائے جانے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بحث کرانے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے سرکار سے اجازت لینی ہوگی مسٹر گاندھی نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
جنتر منتر لاٹھی چارج پر طلبہ کو قانونی اور میڈیکل امداد فراہم کرے گی عآپ : کیجریوال

جنتر منتر لاٹھی چارج پر طلبہ کو قانونی اور میڈیکل امداد فراہم کرے گی عآپ : کیجریوال

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران مبینہ لاٹھی چارج اور اس کے بعد طلبہ پر درج مقدمات کے تعلق سے منگل کو مرکزی سرکار پر شدید حملہ بولا مسٹر کیجریوال نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ پرامن مظاہرہ کر رہے طلبہ پر پولیس نے حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔

...مزید دیکھیں
دہلی کے لال ڈورا علاقوں کو ملے گا ڈیجیٹل پراپرٹی  کا حق: ریکھا گپتا

دہلی کے لال ڈورا علاقوں کو ملے گا ڈیجیٹل پراپرٹی کا حق: ریکھا گپتا

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) دہلی سرکار نے راجدھانی کے لال ڈورا اور گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو ان کی جائیدادوں کا محفوظ اور ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو محکمۂ محصولات کی جائزہ میٹنگ میں مرکزی سرکار کی 'سوامتوا یوجنا' کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

...مزید دیکھیں

دہلی پولیس کی کارروائی جمہوریت پر حملہ ہے، مودی، امت شاہ اور دھرمیندر پردھان مستعفی ہو جائیں: رندھاوا

21 Jul 2026 | 10:42 PM

چنڈی گڑھ/نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلی سکھجندر سنگھ رندھاوا نے دہلی میں نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کے احتجاج کے دوران ممبران پارلیمنٹ اور کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ اسے جمہوری حقوق کا دبائو قرار دیتے ہوئے انہوں نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ منگل کو یہاں جاری ایک بیان میں مسٹر رندھاوا نے کہا کہ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ اور کارکنان طلباء کے مستقبل اور امتحان میں مبینہ بے ضابطگ.