RegionalPosted at: Aug 5 2026 3:20PM عمر عبداللہ کا 5 اگست کی تبدیلیوں کو واپس لینے کا عزم، کہا ’ہم بھولے ہیں، نہ سمجھوتہ کیا ہے‘

سرینگر، 5 اگست (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بدھ کے روز 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس لینے کے اپنی پارٹی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سات سال گزرنے کے بعد بھی وہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو نہ تو بھولے ہیں اور نہ ہی ان سے سمجھوتہ کیا ہے مرکز کے 5 اگست کے فیصلوں کی ساتویں برسی کے موقع پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی پارٹی جموں و کشمیر سے چھینے گئے حقوق کی بحالی اور اس کی شناخت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
عمرعبداللہ نے ایکس پر کہا، ”7 سال گزر گئے، ہم نہ بھولے ہیں اور نہ ہی ہم نے اپنے موجودہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے، قبول کرنا تو دور کی بات ہے۔ میں اور میری پارٹی جموں و کشمیر کے ساتھ کی گئی ان تمام باتوں کو واپس لینے کے لیے پرعزم ہیں، جن سے ہمارے حقوق غصب کئے گئے اور ہماری شناخت کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔“
رابرٹ فروسٹ کی مشہور نظم ’اسٹاپنگ بائی ووڈس آن اِ اسنوئی ایوننگ‘ کی سطروں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر نے مزید کہا، ”جنگل خوبصورت، تاریک اور گہرے ہیں۔ لیکن مجھے کچھ وعدے پورے کرنے ہیں اور سونے سے پہلے ابھی میلوں کا سفر طے کرنا ہے……“
پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ایم ایل اے سجاد لون نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف ایک ”وحشیانہ اور بے رحم تختہ پلٹ“ قرار دیا۔
انہوں نے ایکس پر کہا، ”5 اگست 2019 جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف ایک وحشیانہ تختہ پلٹ تھا اس کو جموں و کشمیر کے لوگ آنے والے تمام اوقات کے لیے حقارت اور نفرت کی نظر سے دیکھیں گے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو بے اختیار کرنے کا دن تھا، جب سب کچھ چھین لیا گیا۔ دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے جموں و کشمیر کو ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہندوستان کے لوگ سمجھیں گے کہ یہ وہ وعدے تھے جو الحاق کے موقع پر جموں و کشمیر کے لوگوں سے کیے گئے تھے اور آہستہ آہستہ تمام وعدوں کو واپس لے لیا گیا اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے پاس سہارا لینے کے لیے جو کچھ بھی تھوڑا سا بچا تھا، اسے 5 اگست 2019 کو بے رحمی سے چھین لیا گیا۔“
مسٹر لون نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ”خیرات کے طور پر نہیں بلکہ حق کے طور پر دوبارہ بااختیار بنایا جائے گا۔“
خیال رہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ پارلیمنٹ نے بعد میں جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ منظور کیا، جس نے سابقہ ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف