NationalPosted at: Nov 12 2025 8:42PM یو این آئی اینالیسزشراکت پر مبنی پولیسنگ: مدد کے لیے کال کو آسان بنانا

از: سرینواس مادھو اور سریوانی مادھو
اپریل 2023 میں حیدرآباد کی ایک مصروف سڑک پر دن کے اجالے میں، ایک عورت پر اچانک ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر دیا پانچ راہگیرجن میں ایک آٹو ڈرائیور بھی شامل تھا حرکت میں آگئے، حملے کو روکا، اس کی خون آلودہ گردن پر کپڑا باندھا اور اسے اسپتال لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 'ایک عورت کو کسی بھی تشدد سے بچانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں،'۔ لوگوں نے ان کی ہمت کو سراہا اور اس عورت کی جان بچ گئی۔
راہگیر یہ سب کچھ اس لیے کر سکے کیونکہ وہ صحیح وقت پر صحیح جگہ موجود تھے۔ پریشانی کو اپنے روبرو دیکھ رہے تھے لیکن کیا ہوتا اگر یہی واقعہ رات کے وقت، ایک تاریک گلی کے کونے میں پیش آیا ہوتا، جس کے آس پاس کوئی اس کی چیخ سننے والا نہ ہو؟ ایسے ہیروز کیسے جان سکتے تھے کہ عورت خطرے میں ہے؟
یہ خاص طور پر'112 انڈیا' پہل کا وعدہ ہے، جو خاموشی سے شروع کیا گیا، قومی ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس) کے تحت مرکز کا ایک طاقتور شہری حفاظتی وسیلہ ہے، جسے وزارت داخلہ نے سنٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی۔ ڈی اے سی) اور خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے تعاون سے نربھیہ فنڈ کے تحت شروع کیا ہے۔ خواتین کی حفاظت سے متعلق قومی سالانہ رپورٹ اور انڈیکس (این اے آر آئی 2025)، 31 شہروں میں 12,400 سے زیادہ خواتین کے تجربات کو اجاگر کرتی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ 35.4 فیصد خواتین عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور ہراساں کیے جانے کے ہر 100 واقعات میں سے، صرف 16کی اطلاع خواتین کی ہیلپ لائن تک پہنچتی ہے۔ یہ فرق موجودہ سپورٹ سسٹم سے لوگوں کی کم واقفیت اور محدود اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
112' انڈیا' کے ذریعے ہنگامی مدد کو آسان بنانے کے لیے، اور سب سے اہم کمیونٹی کی حمایت یافتہ، ایک قابل اعتماد لائف لائن کے طور پر فعال بنا کراس فرق کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ '112 انڈیا 'پولیس، فائر، ایمبولینس، ڈیزاسٹر رسپانس، اور خواتین اور بچوں کے لیے ہیلپ لائنز کو ایک ہی نمبر کے تحت مجتمع کرتا ہے: 112، انڈیا کا اپنا 911۔
یہ انضمام متعدد ہیلپ لائن نمبروں جیسے 100، 101، 108، 181، اور دیگر کے استعمال میں تذبذب کو ختم کرتا ہے۔ مارچ 2025 کے مطابق ای آر ایس ایس-112 کو بارہ لاکھ کالز فی گھنٹہ موصول ہوئیں۔ ای آر ایس ایس -112 کو ریاستی مرکز کے نظام کے طور پرمتعین کیا گیا ہے، جو 10 سے زائد مختلف چینلز (وائس کال، ایس ایم ایس، ایس او ایس، ای میل، ویب ریکوئسٹ، مکالماتی AI چیٹ بوٹ، میڈیا کرالر، آئی او ٹی پر مبنی سگنلز، واٹس ایپ اور ایکسٹرنل سگنلز) کے ذریعے شہریوں کی مدد کی کالز وصول کرتا ہے۔ 'کال ٹیکنگ سسٹم' پر شہریوں کی کالز کو مزید کارروائی کے لیے مکمل واقعے کے ڈیٹا کے ساتھ آگے بھیج دیا جاتا ہے۔
ایمرجنسی رسپانس یونٹس (گاڑیاں) موبائل ڈیٹا ٹرمینلز سے لیس ہیں، جو بر وقت ٹریکنگ اور کمیونیکیشن کو قابل استعمال بناتی ہیں۔ تمام موبائل فون ہینڈ سیٹس میں گھبراہٹ کا بٹن اور گلوبل پوزیشننگ سسٹم کی سہولت، 2016 کے مینڈیٹ "گھبراہٹ بٹن" ہندوستان میں فروخت ہونے والے موبائل ہینڈ سیٹس کے لیے لازمی ہے۔ اسمارٹ فون پر، پاور بٹن کو تین بار دبانے سے گھبراہٹ کی کال تیزی سے فعال ہوجاتی ہے۔ فیچر فون پر، 5 یا 9 نمبر کی کلید کو دیر تک دبانے سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ' 112 انڈیا ایپ 'کی دو منفرد خصوصیات ہیں، جو گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹورز دونوں پر دستیاب ہے 'والنٹیر' اور ' شاؤٹ۔' والنٹیئر کا آپشن عام افراد کو کے وائی سی دستاویز اپ لوڈ کرکے فعال والنٹیئر کے طور پر رجسٹر کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کی منظوری سے قبل مقامی پولیس سے تصدیق کی جائے گی۔ یہ والنٹیرز کی ذمہ داری اور قابل بھروسہ ہونے کو یقینی بناتا ہے۔ 'شاؤٹ' فیچر پریشانی میں مبتلا خواتین اور بچوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ فعال ہونے پر، 'شاؤٹ' پولیس کے ساتھ قریبی والنٹیئرز اور پہلے سے منتخب رابطہ نمبرز کو فوری الرٹ بھیجتا ہے۔ یہ الرٹ متاثرہ شخص کا درست مقام فراہم کرتا ہے، جس سے والنٹیئرز کو فوری طور پر جائے وقوعہ تک پہنچنے اور موجودگی فراہم کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ کمیونٹی ایکشن کے ساتھ ٹکنالوجی کو مربوط کرتے ہوئے، 112 انڈیا نے عام شہریوں Rs دکانداروں، اساتذہ، پڑوسیوں Rs کو فعال راہگیروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہنگامی صورت حال میں ایک شخص کو ملنے والی پہلی مدد اکثر کسی اجنبی کی ہوتی ہے۔ جب ہر سیکنڈ اہم ہوتا ہے، والنٹیرز متاثرہ شخص تک تیزی سے پہنچ سکتے ہیں، یقین دہانی فراہم کر سکتے ہیں، یا پولیس کے آتے ہی حفاظت کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس طرح '112 انڈیا' خواتین اور بچوں کو بااختیار بناتا ہے، انہیں اعتماد فراہم کرتا ہے اور اب زیادہ قابل رسائی ہو چکا ہے۔ رضاکاروں کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ آیاان کی حفاظت کے ارادے سےان کی مدد کرنا ہے۔
وزارت داخلہ کو تمام رجسٹرڈ والنٹیئرز کے لیے غیر متحرک ویڈیوز کے بجائے اے آئی پر مبنی لرننگ ماڈیولز اور اے آئی سے چلنے والے سمیلیشنز فعال مہارتیں پیدا کر سکتے ہیں - کسی صورت حال کا اندازہ کیسے لگایا جائے، ان کی اپنی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، تنازعات کو کم کرتے ہوئے خطرے کے بغیر مداخلت کی جائے، یا مجرموں کا براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے متاثرین کی حفاظت کی طرف توجہ دی جائے۔ لازمی ذاتی تربیت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ والنٹیئرز نہ صرف آمادہ ہیں بلکہ پراعتماد، تیار اور محفوظ بھی ہیں، اس طرح ردعمل کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بنگلورو پولیس مبینہ طور پر اپنی 112 ہیلپ لائن میں اے آئی سے چلنے والے وائس اسسٹنٹ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ کال کرنے والوں کو بنگالی، منی پوری، ہسپانوی اور عربی سمیت 15 سے زیادہ ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں بات چیت کرنے کی اجازت دی جا سکے۔ یہ اختراع اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہاں تک کہ سیاح ، طلباء اور تارکین وطن کارکن بھی اپنی زبان میں فوری مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر، ایک واحد اور سادہ ایمرجنسی نمبر کی ضرورت 1964 میں نیو یارک سٹی میں کٹی جینویس کے سانحے کے بعد محسوس کی گئی۔ تقریباً 37 پڑوسیوں نے کٹی کے قتل کے دوران اس کے رونے کی آوازیں سنیں لیکن بے حسی اور مدد کے لیے کوئی نمبر موجود نہ ہونے کی وجہ سےکسی نے پولیس کو نہیں بلایا ۔ یہ کیس 911 ایمرجنسی کال سسٹم کے وجود میں آنے کی ایک وجہ سمجھا جاتا ہے جسے امریکہ 1968 سے استعمال کر رہا ہے۔
یہ اس خیال پر مبنی ہے کہ مدد کے لیے کال کو آسان بنانے سے دیکھنے والوں کی ہچکچاہٹ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، 911 امریکی ثقافت کا حصہ بن گیا: اسکول کے بچوں کو 911 ڈائل کرنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے، میڈیا نے بچوں کے والدین کو فوری کال کے ذریعے بچانے کے واقعات شئیر کیے۔ جب ایک بچے نے ہوٹل کے فون سے 911 ڈائل کرکے اپنی ماں کو بچانے کی ناکام کوشش کی جہاں باہر کی لائن کے لیے '9' ڈائل کرنے کی ضرورت تھی، لہذا' کریز لاء(2018) 'کے تحت کسی سابقہ نمبرکے بغیر براہ راست کسی بھی ملٹی ڈائریکٹ سسٹم سے911 کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا پورے یوروپی یونین میں، '112' ڈائریکٹو 2002/22/ای سی کے تحت عالمگیر معیار بن گیا ہے۔ روس اور جنوبی افریقہ بھی اسے بنیادی ایمرجنسی نمبر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ عالمی موبائل انٹرآپریبلٹی کی وجہ سے، امریکہ جیسے ممالک میں بھی، 112 ڈائل کرنے سے مقامی ایمرجنسی لائنوں سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے۔ امریکہ میں پلس پوائنٹ اور برطانیہ میں ٖٖگُڈ سیم جیسے ایپس آف ڈیوٹی پیشہ ور افراد جیسے ڈاکٹروں کو پہلے جواب دہندگان کے طور پر فعال بناتا ہے۔ 112 انڈیا مزید آگے جاتا ہے: یہ ہر ذمہ دار شہری کو بااختیار بناتا ہے۔ اب یہ ہر قابل شہری کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ والینٹئر کے طور پر رجسٹر ہوں۔ جس طرح خون کا عطیہ ایک شہری فرض بن گیا ہے، اسی طرح 'حفاظتی والینٹئرشپ' بھی ہونا چاہیے۔
مصنفین اسٹیسمین سے وابستہ ہیں۔