NationalPosted at: Feb 4 2026 4:36PM ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی بات چیت میں خوراک اور زراعت کے شعبے کی حساسیت کا مکمل خیال رکھا ہے: گوئل

نئی دہلی، 4 فروری (یو این آئی) وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے بدھ کے روز ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی بات چیت کے دوران ہندوستان نے ملک کے خوراک اور زرعی شعبے کی اہم حساسیت کا مکمل طور پر خیال رکھا ہے لوک سبھا میں ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق دونوں ممالک کی جانب سے کی گئی اعلانات پر اپنے بیان میں مسٹر گوئل نے کہا کہ ہندوستانی فریق اپنے حساس شعبوں، بالخصوص زراعت اور ڈیری سیکٹر کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فریق کے بھی کچھ ایسے شعبے ہیں جو ان کے نقطۂ نظر سے حساس ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر گوئل نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے میں ہندوستان زرعی شعبے کی حساسیت کا خاص خیال رکھے گا اور اس حوالے سے ہونے والی بات چیت میں یہ بات واضح طور پر رکھی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، صنعت کاروں، ہنر مند مزدوروں اور صنعت کے لیے نئے مواقع کھولے گا، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو آسان بنائے گا اور ہندوستان کے ’’میک اِن انڈیا فار دی ورلڈ، ڈیزائن اِن انڈیا فار دی ورلڈ اور انوویٹ اِن انڈیا فار دی ورلڈ‘‘ کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس فروری میں وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے دورے کے بعد سے ہندوستان اور امریکہ ایک متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے مقصد سے مسلسل بات چیت کرتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں دونوں فریقوں کے مذاکرات کاروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف سطح پر تفصیلی اور گہری گفتگو کی ہے۔ دونوں جانب کے اہم اور متنوع مفادات کو دیکھتے ہوئے یہ فطری ہے کہ ہر فریق اپنی اپنی معیشت کے اہم اور حساس شعبوں کا تحفظ کرتے ہوئے بہترین ممکنہ نتائج کو یقینی بنانا چاہے گا۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ان مذاکرات کے دوران تقریباً ایک سال تک جاری مختلف ادوار کی مشاورت کے بعد دونوں مذاکراتی ٹیمیں دو طرفہ تجارتی معاہدے کے کئی شعبوں کو حتمی شکل دینے میں کامیاب رہی ہیں۔ دو فروری کو وزیرِ اعظم مودی اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر دو طرفہ اور عالمی اہمیت کے متعدد امور پر بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکہ کو کی جانے والی ہندوستانی برآمدات پر عائد ٹیرف کی شرح کم کر کے 18 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔
وزیرِ تجارت نے کہا، ’’میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ شرح امریکہ کی جانب سے کئی مسابقتی ممالک پر عائد درآمدی محصولات سے کم ہے جس سے امریکی منڈی میں ہندوستان کی برآمدی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ یہ معاہدہ ہندوستانی برآمد کنندگان کو خاص طور پر محنت طلب شعبوں اور مینوفیکچرنگ میں نمایاں تقابلی فائدہ بھی فراہم کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی فریم ورک معاہدہ ہند۔امریکہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کی سمت ہماری پیش رفت کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور یہ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو فطری شراکت دار ہیں اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
وزیرِ تجارت نے کہا کہ دونوں فریق تجارتی معاہدے سے متعلق ضروری تکنیکی عمل اور کاغذی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ اس کی مکمل صلاحیت سے جلد از جلد فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ان مراحل کی تکمیل کے بعد معاہدے کی تفصیلی خاکہ فوری طور پر جاری کر دی جائے گی۔
مسٹر گوئل نے کہا، ’’اراکین ہندوستان کے توانائی کے ذرائع سے متعلق ان امور سے واقف ہوں گے جو اس معاہدے پر ہونے والی بات چیت کے دوران سامنے آئے ہیں۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ حکومت متعدد بار عوامی طور پر کہہ چکی ہے کہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی توانائی ضروریات کا تحفظ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ معروضی منڈی حالات اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے مطابق توانائی کے ذرائع میں تنوع لانا ہماری حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔ ہندوستان کی تمام کارروائیاں اسی سوچ کے تحت کی جاتی ہیں۔ لہٰذا میں اراکین سے گزارش کرتا ہوں کہ ان امور کو درست تناظر میں دیکھیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’مستقبل کے تجارتی مواقع کے حوالے سے اراکین یہ سمجھیں گے کہ ہندوستان اور امریکہ بڑی حد تک ایک دوسرے کی تکمیلی معیشت ہیں۔ جیسے جیسے ہندوستان ترقی یافتہ ہندوستان کے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے ہمیں توانائی، ہوابازی، ڈیٹا سینٹرز، جوہری توانائی سمیت کئی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ امریکہ ان شعبوں میں دنیا کا سرکردہ ملک ہے، اس لیے ان شعبوں میں تجارتی امکانات پر توجہ مرکوز کرنا ہمارے لیے فطری ہے جس سے نہ صرف ہماری درآمدات بلکہ ہماری اپنی برآمدات میں بھی توسیع ہوگی۔ اس لیے ہمیں توقع ہے کہ تقابلی فائدے کے نتیجے میں کئی شعبوں میں ہندوستان کی برآمدات امریکہ میں بھی نمایاں طور پر بڑھیں گی۔‘‘
مرکزی وزیر نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ یہ فریم ورک معاہدہ جو آنے والے برسوں میں عالمی ترقی اور اختراع کو رفتار دے گا، ہندوستان کی عوام اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ یہ ترقی یافتہ ہندوستان اور خود کفیل ہندوستان دونوں کو مضبوط بناتا ہے۔ حکومت ملک کے لیے وزیرِ اعظم کے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کی سمت مسلسل کام کرتی رہے گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ اپوزیشن اس بات کو لے کر حکومت پر حملہ آور ہے کہ پارلیمانی اجلاس کے دوران اس معاہدے سے متعلق معلومات پارلیمنٹ سے باہر عوامی طور پر جاری کی گئیں۔ مسٹر گوئل نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں اس معاہدے کے بارے میں معلومات دی تھیں۔ اس سے قبل اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت سے اس معاہدے پر بیان دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ اے ایم