NationalPosted at: Mar 5 2026 7:50PM ایچ کے دُوا رخصت ہوئے: ایک صحافی جس نے ہمیشہ 'رپورٹر' کے جذبے کو زندہ رکھا

نئی دہلی ،5 مارچ (یو این آئی ) ہندوستان کے مایہ ناز صحافی، سفارت کار اور سابق رکن پارلیمنٹ ایچ کے دُوا بدھ کے روز 88 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے جمعرات کو دارالحکومت نئی دہلی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں، جس میں صحافت، سیاست اور سماجی حلقوں کی نامور شخصیات نے شرکت کی 'دُوا صاحب' کے نام سے مشہور ایچ کے دُوا کو ان کے ساتھی ایک ایسے مدیر کے طور پر یاد کرتے ہیں جو عہدوں کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی دل سے ہمیشہ ایک متجسس رپورٹر رہے۔
ایچ کے دُوا کو ہندوستانی صحافت میں یہ منفرد اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے ملک کے چار ممتاز ترین انگریزی اخبارات کی قیادت کی:
ہندوستان ٹائمز (1987–94)
دی انڈین ایکسپریس (1994–96)
دی ٹائمز آف انڈیا (بطور ایڈیٹوریل ایڈوائزر 1997–98)
دی ٹریبیون (2003–09)
انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا (یواین آئی ) سے کیا اور عالمی رہنماؤں بشمول مارگریٹ تھیچر، لی پینگ اور یتزاک رابن کے یادگار انٹرویوز کیے۔
ان کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ ان کے صحافتی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ سینئر صحافی مہندر وید کے مطابق، ایک بار دُوا صاحب اپنے اسکوٹر پر جا رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ اس وقت کے نوجوان اپوزیشن لیڈر اٹل بہاری واجپائی سڑک کنارے ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے ہیں۔دُوا صاحب نے انہیں اپنے اسکوٹر پر لفٹ دی اور پریس کانفرنس تک پہنچایا۔ اس سادہ سی ہمدردی نے ایک رپورٹر اور ہندوستان کے مستقبل کے عظیم مدبر کے درمیان عمر بھر کی دوستی کی بنیاد رکھ دی۔
ایچ کے دُوا کی خدمات صرف صحافت تک محدود نہ تھیں۔ وہ سابق وزرائے اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا اور اٹل بہاری واجپائی کے میڈیا ایڈوائزر رہے، ڈنمارک میں ہندوستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور 2009 میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے انہیں راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا۔
آخری رسومات میں ٹی این نینن، راجدیپ سردیسائی، این این ووہرا اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کر کے ان کی اہلیہ ادیتی دوا سے تعزیت کی۔
یواین آئی ۔م اع