RegionalPosted at: Aug 6 2026 10:35AM رائے پور میں مبینہ قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ پر احتجاج، بجرنگ دل نے کارروائی کا مطالبہ کیا
رائے پور، 6 اگست (یو این آئی) چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں سوشل میڈیا پر ماتا سیتا اور ہندو سادھو سنتوں کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کیے جانے کے الزام پر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس معاملے میں بدھ کی رات بجرنگ دل کے کارکنوں نے سول لائن تھانے پہنچ کر احتجاج کیا اور ملزم کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضداشت پیش کی۔ اس دوران کارکنوں نے ملزم کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ پولیس نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بجرنگ دل کے عہدیداروں کے مطابق، انسٹاگرام کی ایک پوسٹ میں ماتا سیتا اور ہندو سادھو سنتوں کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ کھاتہ رائے پور کے راجا تالاب علاقے کے رہنے والے وسیم احمد کا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک متعلقہ انسٹاگرام اکاؤنٹ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ پولیس کے مطابق شکایت کی بنیاد پر متعلقہ پوسٹ، انسٹاگرام اکاؤنٹ اور دیگر شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔
بجرنگ دل کا کہنا ہے کہ مبینہ پوسٹ سے ہندو برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ تنظیم نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاج کے دوران چھتیس گڑھ بجرنگ دل کے صوبائی معاون کنوینر وجیندر ورما نے کہا، ’’ہندو مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں رہ کر ہندو مذہب کو نشانہ بنانا قابل نفرت عمل ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر کارروائی نہیں کی گئی تو چھتیس گڑھ بجرنگ دل اپنی سطح پر کارروائی کرے گا۔‘‘
بجرنگ دل نے انتظامیہ کو پیش کی گئی عرضداشت میں خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں مناسب کارروائی نہیں کی گئی تو تنظیم اپنا احتجاج مزید تیز کرے گی۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے اور تحقیقات کی بنیاد پر قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے