NationalPosted at: May 7 2026 3:39PM کھنڈیلوال کا نجی اسپتالوں اور انشورنس کمپنیوں کی منمانی پر نڈا کو خط

نئی دہلی، 07 مئی (یو این آئی) قومی دارالحکومت میں چاندنی چوک لوک سبھا حلقہ کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا سے اپیل کی ہے کہ وہ نجی اسپتالوں سے ڈسچارج کے وقت ٹی پی اے (تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹر)، انشورنس کمپنیوں اور اسپتالوں کے درمیان ہونے والی غیر ضروری تاخیر کو ختم کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
مسٹر کھنڈیلوال نے اس سلسلے میں مسٹر نڈا کو ایک خط لکھا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ دہلی سمیت ملک بھر میں لاکھوں لوگوں نے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ہیلتھ انشورنس لیا ہوا ہے، لیکن ناقص انتظامات کی وجہ سے یہ لوگ ذہنی، جسمانی اور معاشی اذیت جھیلنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید طبی سہولیات، مہنگے انشورنس پریمیم اور کیش لیس علاج کے نظام کے باوجود اگر مریض کو اسپتال سے چھٹی حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں یا پورا دن انتظار کرنا پڑے، تو یہ پورے نظام کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاج مکمل ہونے اور ڈاکٹر کی جانب سے فٹ قرار دیے جانے کے بعد بھی مریضوں کو محض فائلوں، ای میلز، دستاویزات اور رسمی منظوریوں کے نام پر اسپتالوں میں روکے رکھنا کسی بھی طرح سے جائز نہیں کہا جا سکتا۔
مسٹر کھنڈیلوال نے انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا (آئی آردی اے آئی ) کے چیئرمین اجے سیٹھ کو بھی الگ سے ایک خط بھیج کر انشورنس کمپنیوں اور ٹی پی اے کے لیے سخت اور وقت کے پابند رہنما خطوط جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہیلتھ انشورنس اس لیے لیتے ہیں تاکہ بیماری کے وقت انہیں معاشی تحفظ اور ذہنی راحت مل سکے، لیکن آج صورتحال اس کے بالکل برعکس ہو گئی ہے۔ انشورنس کی سہولت اب راحت کا ذریعہ بننے کے بجائے کئی معاملات میں "انتظامی تشدد" کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس اور کیش لیس علاج کے نظام کا بنیادی مقصد مریض کو راحت اور تحفظ فراہم کرنا تھا، لیکن موجودہ نظام میں مریض اسپتال، انشورنس کمپنی اور ٹی پی اے کے "چکر" میں پھنس جاتا ہے۔ علاج کے بعد بھی مریض اور اس کا خاندان انتظامی عمل کے یرغمال بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال نظامِ صحت پر لوگوں کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور انشورنس سیکٹر کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال ڈسچارج کا عمل بروقت شروع نہیں کرتے، ٹی پی اے بار بار نئے دستاویزات مانگتے ہیں اور انشورنس کمپنیاں واضح جوابدہی سے بچتی ہیں۔ تعطیلات، اتوار اور دیر رات کے وقت صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے کیونکہ متعلقہ حکام دستیاب نہیں ہوتے۔ کئی اسپتالوں میں مریضوں کو یہ کہہ کر روکا جاتا ہے کہ "فائنل اپروول" نہیں آیا، جبکہ علاج کی منظوری پہلے ہی مل چکی ہوتی ہے۔ یہ پورا نظام مریض کے بجائے طریقہ کار پر مرکوز بن چکا ہے، جو انسانی ہمدردی کے خلاف ہے۔
مسٹر کھنڈیلوال نے کہا کہ اگر ڈیجیٹل بینکنگ، آن لائن ادائیگی اور دیگر مالیاتی خدمات چند منٹوں میں ممکن ہیں، تو اسپتال سے ڈسچارج جیسا حساس عمل گھنٹوں تک زیر التوا رہنا مکمل طور پر غیر مناسب ہے۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اس دور میں مریضوں کو فائلوں اور ضابطوں کے نام پر پریشان کرنا کسی بھی جدید صحت کے نظام کے مطابق نہیں ہے۔
انہوں نے درخواست کی ہے کہ مرکزی حکومت فوری طور پر ایک سخت اور وقت کے پابند پالیسی نافذ کرے، جس کے تحت ڈسچارج دستاویزات جمع ہونے کے بعد ایک سے دو گھنٹے کے اندر حتمی ٹی پی اے منظوری لازمی ہو، مقررہ وقت میں جواب نہ ملنے پر اسے "ڈیمڈ اپروول" (خودکار منظوری) مانا جائے اور مریض کو فورا جانے دیا جائے۔ غیر ضروری تاخیر پر اسپتال، ٹی پی اے اور انشورنس کمپنیوں کی واضح جوابدہی طے ہو، پورے عمل کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنایا جائے، 24x7 کلیم کلیئرنس کی سہولت دستیاب ہو اور مریضوں کے لیے مؤثر اور فوری شکایات کے ازالے کا طریقہ کار قائم کیا جائے۔
انہوں نے کہا، "جو مریض طبی طور پر صحت یاب ہو کر گھر جانے کے لیے تیار ہے، اسے انتظامی عمل کی وجہ سے اسپتال میں روکے رکھنا غیر انسانی ہے۔ صحت کے نظام کا مقصد مریض کو راحت دینا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے کاغذی کارروائیوں اور ادارہ جاتی بے حسی کے جال میں پھنسانا۔ بدقسمتی سے موجودہ نظام میں بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے۔"
یواین آئی ۔ایف اے