InternationalPosted at: May 7 2026 11:53AM منصفانہ اور جامع معاہدہ ہی قبول کریں گے: عباس عراقچی
بیجنگ، 7 مئی (یو این آئی) ایران نے امریکہ کی 14 نکات پر مشتمل امن تجویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران صرف ایک منصفانہ اور جامع معاہدہ ہی قبول کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے ملاقات کے دوران کہا کہ چین ایران کا قریبی دوست ہے اور موجودہ حالات میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایران مذاکرات میں اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ تہران نے دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی حالیہ تجویز کا ابھی تک باضابطہ جواب نہیں دیا کیونکہ اس میں بعض ایسی دفعات شامل ہیں جو ایران کے لیے ناقابل قبول ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی ذرائع نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف دھمکی آمیز زبان صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ چین خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا اور امریکہ و ایران کے درمیان براہ راست ملاقاتیں ناگزیر ہیں کیونکہ خطہ ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے جامع جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمنی کا جاری رہنا ناقابل قبول ہے اور مذاکراتی عمل کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔
وانگ ای نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جائے تاکہ عالمی جہاز رانی معمول پر آ سکے۔
چینی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ایران کو پرامن ایٹمی توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کا قانونی حق حاصل ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد عباس عراقچی کا یہ پہلا دورۂ چین ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔