Saturday, Feb 14 2026 | Time 01:54 Hrs(IST)
Special Story

ہندوستان کی قابلِ تجدید توانائی: امکانات اور چیلنجز

ہندوستان کی قابلِ تجدید توانائی: امکانات اور چیلنجز

خصوصی مضمون: ظفراقبال
اکیسویں صدی میں توانائی انسانی تہذیب، معاشی ترقی اور سماجی بہبود کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کا انحصار اس کی توانائی پیدا کرنے، تقسیم کرنے اور منصفانہ استعمال کی صلاحیت پر ہوتا ہے، صنعتی انقلاب کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی مانگ میں بے،مثال اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں روایتی توانائی کے ذرائع مثلاً کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس پر حد سے زیادہ انحصار کیا گیا، ان ذرائع نے اگرچہ صنعتی ترقی اور معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی، عالمی حدت، موسمیاتی تبدیلی، صحت کے سنگین مسائل اور قدرتی وسائل کی تیزی سے کمی جیسے خطرناک نتائج بھی سامنے آئے۔
ہندوستان، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے، توانائی کے ان عالمی چیلنجز سے براہِ راست متاثر ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، تیز رفتار شہری کاری، صنعتوں کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور بہتر معیارِ زندگی کی خواہش نے توانائی کی طلب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایسے حالات میں قابلِ تجدید توانائی ایک پائیدار، ماحول دوست اور طویل المدت حل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی نہ صرف ماحول کو آلودگی سے بچاتی ہے بلکہ توانائی میں خود کفالت، معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور سماجی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولتی ہے۔
قابلِ تجدید توانائی سے مراد وہ توانائی ہے جو قدرتی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے اور جو مسلسل یا قلیل مدت میں دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے۔ ان ذرائع میں سورج کی روشنی، ہوا کی طاقت، پانی کا بہاؤ، حیاتیاتی مادّہ اور زمین کے اندر موجود حرارت شامل ہیں۔ ان تمام ذرائع کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے استعمال سے قدرتی وسائل ختم نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ ماحول میں زہریلی گیسوں کا اخراج کرتے ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی کی نمایاں خصوصیات میں پائیداری، ماحول دوستی، کم کاربن اخراج، مقامی سطح پر دستیابی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدت معاشی فائدہ شامل ہیں۔ اگرچہ ابتدائی مرحلے میں ان منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ توانائی نہ صرف سستی ثابت ہوتی ہے بلکہ صحت، ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق اخراجات میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے۔
ہندوستان اس وقت دنیا کے بڑے توانائی صارفین میں شمار ہوتا ہے۔ ملک کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ طویل عرصے تک کوئلے سے پورا کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر بجلی کی پیداوار کے شعبے میں۔ کوئلہ اگرچہ سستا اور آسانی سے دستیاب ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے استعمال کے نتیجے میں فضائی آلودگی، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ کئی بڑے ہندوستانی شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکے ہیں، جہاں سانس کی بیماریاں، دل کے امراض اور دیگر صحت کے مسائل عام ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں حکومتِ ہند نے توانائی کے شعبے میں تنوع پیدا کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کو قومی ترقی کی ترجیح قرار دیا گیا ہے اور شمسی، ہوائی، آبی اور بایوماس توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ہندوستان آج قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے والے سرِفہرست ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔
شمسی توانائی ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور امید افزا قابلِ تجدید ذریعہ ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے ہندوستان خطِ استوا کے قریب واقع ہے، جہاں سال کے بیشتر دن سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شمسی توانائی ہندوستان کی توانائی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنتی جا رہی ہے۔
شمسی توانائی بنیادی طور پر دو طریقوں سے استعمال کی جاتی ہے۔ پہلا طریقہ فوٹو وولٹائک ٹیکنالوجی ہے، جس میں سولر پینلز سورج کی روشنی کو براہِ راست بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ دوسرا طریقہ شمسی حرارتی نظام ہے، جس میں سورج کی حرارت کو استعمال کر کے بھاپ پیدا کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے ٹربائن چلا کر بجلی حاصل کی جاتی ہے۔
حکومتِ ہند نے قومی شمسی مشن کے تحت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں۔ شمسی پارکس کا قیام، چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب، زرعی شمسی پمپ، دیہی شمسی مائیکرو گرڈز اور کم لاگت گھریلو سولر نظام ان اقدامات کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان منصوبوں نے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا بلکہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں توانائی تک رسائی کو بھی ممکن بنایا۔
شمسی توانائی کے فوائد میں کم آلودگی، خاموش پیداوار، کم دیکھ بھال کے اخراجات اور طویل المدت فائدہ شامل ہیں۔ تاہم زمین کی دستیابی، بجلی کے ذخیرے کا مسئلہ، موسمی انحصار اور ابتدائی سرمایہ کاری جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں، جن کے حل کے لیے جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ہندوستان میں ہوائی توانائی کی صلاحیت بھی غیر معمولی ہے۔ ساحلی علاقوں، پہاڑی خطوں اور کھلے میدانوں میں تیز اور مسلسل ہوائیں چلتی ہیں، جو بجلی پیدا کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ہوائی توانائی کے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں۔
ہوائی توانائی کے منصوبوں نے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیا ہے۔ ٹربائنز کی تیاری، تنصیب، دیکھ بھال اور متعلقہ خدمات کے ذریعے ہزاروں افراد کو روزگار ملا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آف شور ونڈ انرجی مستقبل میں ہندوستان کے لیے ایک نیا اور وسیع میدان فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم ہوائی توانائی کا انحصار موسمی حالات پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں تسلسل برقرار رکھنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ زمین کے استعمال، شور اور بصری اثرات جیسے مسائل بھی پالیسی سازوں کی توجہ چاہتے ہیں۔
آبی توانائی ہندوستان میں بجلی پیدا کرنے کا ایک قدیم اور معتبر ذریعہ ہے۔ بڑے ڈیمز کے علاوہ چھوٹے اور مائیکرو ہائیڈرو منصوبے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں، جو پہاڑی اور دیہی علاقوں میں توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
آبی توانائی قابلِ اعتماد اور کم کاربن اخراج والی ہے، مگر بڑے ڈیمز ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور مقامی آبادی کی نقل مکانی جیسے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے جدید دور میں چھوٹے پیمانے کے آبی منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں فصلوں کی باقیات، جانوروں کا فضلہ اور شہری کچرا بڑی مقدار میں دستیاب ہے۔ ان وسائل کو توانائی میں تبدیل کر کے بایو گیس، بایو ایندھن اور بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔
بایوماس توانائی دیہی علاقوں میں صاف اور سستا ایندھن فراہم کرتی ہے، جس سے لکڑی پر انحصار کم ہوتا ہے اور خواتین و بچوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی فضلے کے مؤثر استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آتی ہے۔
حکومتِ ہند نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ وزارتِ قابلِ تجدید توانائی کا قیام، مالی مراعات، سبسڈیز، شفاف نیلامی نظام اور نجی شعبے کی شمولیت اس فریم ورک کے اہم اجزا ہیں۔
ہندوستان عالمی سطح پر بھی قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مہارت کو فروغ دے رہا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی نے ہندوستان میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی سے تعلیم، صحت، زرعی پیداوار اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ ملا ہے، جس سے مجموعی معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے۔
اگرچہ ہندوستان نے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، مگر توانائی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت، گرڈ میں انضمام، مالی وسائل کی کمی اور پالیسی میں تسلسل جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی، تحقیق اور عوامی و نجی شعبے کے اشتراک کی ضرورت ہے۔
بیٹری اسٹوریج، سبز ہائیڈروجن، اسمارٹ گرڈز اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی قابلِ تجدید توانائی کے مستقبل کو مزید مستحکم بنا سکتی ہیں۔ اگر ہندوستان ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور تحقیق کو جاری رکھے تو وہ توانائی کے میدان میں خود کفالت حاصل کر سکتا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی ہندوستان کے لیے ایک پائیدار، ماحول دوست اور خود کفیل مستقبل کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ مناسب پالیسی سازی، عوامی شعور، تکنیکی جدت اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے یہ شعبہ نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ معاشی ترقی، سماجی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ قابلِ تجدید توانائی ہی ہندوستان کے روشن، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی کنجی ہے۔
٭٭٭

خاص خبریں
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی 9 مارچ تک ملتوی

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی 9 مارچ تک ملتوی

نئی دہلی، 13 فروری (یواین آئی) پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ جمعہ کو مکمل ہو گیا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی 9 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی بجٹ اجلاس کا آغاز 28 جنوری کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس میں صدر دروپدی مرمو کے خطاب سے ہوا تھا اس کے بعد 29 جنوری کو اقتصادی سروے پیش کیا گیا اور یکم فروری کو لوک سبھا میں بجٹ پیش کیا گیا، جس کی نقل اسی دن راجیہ سبھا میں بھی رکھی گئی۔

...مزید دیکھیں
بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں طارق رحمان کی بی این پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی

بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں طارق رحمان کی بی این پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی

ڈھاکہ، 13 فروری (یو این آئی) طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعہ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اور 13ویں قومی اسمبلی میں 300 میں سے 210 نشستیں جیتیں اس نتیجے کو جنوبی ایشیائی ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جمعرات کو ہونے والا یہ انتخاب بنگلہ دیش کا 2024 کے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد پہلا قومی انتخاب تھا جس نے طویل عرصے سے وزیر اعظم شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔

...مزید دیکھیں
ہند -امریکہ تجارتی معاہدے کی مخالفت کرنے والے کسان لیڈروں سے راہل گاندھی کی ملاقات

ہند -امریکہ تجارتی معاہدے کی مخالفت کرنے والے کسان لیڈروں سے راہل گاندھی کی ملاقات

نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کسان تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور مجوزہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا کانگریس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، کسان لیڈروں نے اس معاہدے کی سخت مخالفت کی اور مکئی، سویا بین، کپاس، پھلوں اور خشک میوہ جات کے کسانوں کے ذریعہ معاش پر اس کے پڑنے والے اثرات پر 'گہری تشویش' کا اظہار کیا۔

...مزید دیکھیں
طارق رحمان: وہ شخص جو  ’کنگ‘ ہوگا

طارق رحمان: وہ شخص جو ’کنگ‘ ہوگا

جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) تمام توقعات کے برخلاف لندن میں 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپسی کے صرف دو ماہ کے اندر طارق رحمان نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو شاندار کامیابی دلائی اس حیران کن کامیابی میں بی این پی نے دو تہائی سے زیادہ نشستیں جیت کر وہ خلا پُر کیا جو عوامی لیگ پر پابندی کے بعد پیدا ہوا تھا۔

...مزید دیکھیں
ہندوستان بایو ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہنے والا ملک نہیں : ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ہندوستان بایو ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہنے والا ملک نہیں : ڈاکٹر جتیندر سنگھ

نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارتھ سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بایو ٹیکنالوجی کے شعبے کو ایک نئی تحریک دینے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن پہل کے تحت 2000 کروڑ روپے کے پہلے قومی بی آئی آر اے سی۔

...مزید دیکھیں
وزیراعظم مودی نے بنگلہ دیش میں بی این پی کی پارلیمانی فتح پر طارق رحمان کو مبارکباد دی

وزیراعظم مودی نے بنگلہ دیش میں بی این پی کی پارلیمانی فتح پر طارق رحمان کو مبارکباد دی

نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو پارلیمانی انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی دلانے پر طارق رحمان کو مبارکباد دی اور ایک جمہوری اور ترقی پسند ہمسایہ ملک کی حمایت جاری رکھنے کے ہندستان کے عزم کا اعادہ کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم مودی نے مسٹر رحمان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا، “یہ کامیابی بنگلہ دیش کے عوام کے آپ کی قیادت پر اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔

...مزید دیکھیں
کھڑگے نے بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج پر طارق رحمان اور بی این پی کو مبارکباد دی

کھڑگے نے بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج پر طارق رحمان اور بی این پی کو مبارکباد دی

نئی دہلی ، 13 فروری (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے نے جمہوری استحکام اور علاقائی امن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر طارق رحمان اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو مبارکباد دی ہے ۔

...مزید دیکھیں

پرانی دنیا ختم، جیو پولیٹکس کے نئے عہد کا آغاز: مارکو روبیو

13 Feb 2026 | 10:52 PM

واشنگٹن، 13 فروری (یو این آئی) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے کے آخر میں منعقد ہونے والی 'میونخ سیکیورٹی کانفرنس' میں شرکت کے لیے جرمنی کا دورہ کریں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جمعہ کے روز جاری کردہ معلومات کے مطابق، وزیر خارجہ اس اہم عالمی فورم پر امریکہ کی نمائندگی کریں گے۔.

وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے چھترسال اسٹیڈیم میں 'دہلی کھیل مہاکمبھ' کا افتتاح کیا

13 Feb 2026 | 11:48 PM

نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی)دہلی کے تاریخی چھترسال اسٹیڈیم میں جمعہ کی شام ایک پروقار تقریب کے دوران دارالحکومت کے سب سے بڑے نچلی سطح کے کھیلوں کے مقابلے 'دہلی کھیل مہاکمبھ 2026' کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ لیزر لائٹس، ڈھول کی تھاپ اور تالیوں کی گونج میں وزیراعلیٰ دہلی ریکھا گپتا نے اس ایک ماہ طویل اسپورٹس فیسٹیول کا افتتاح کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر تعلیم آشیش سود، اولمپک میڈلسٹ روی دہیا اور ہندوستانی کرکٹر شیکھر دھون بھی موجود تھے، جنہیں اس ایونٹ کا برانڈ ایمبیسڈر مقرر کیا گیا ہے۔.

ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت نے راجستھان حکومت کے ساتھ ایک اعلی سطحی جائزہ میٹنگ کی

13 Feb 2026 | 11:44 PM

جے پور ، 13 فروری (یواین آئی) ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) نے آج راجستھان حکومت کے ساتھ ایک اعلی سطحی جائزہ میٹنگ کی تاکہ ہنر مندی کے جاری اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور ریاست میں روزگار کے مواقع کو مضبوط بنانے کے لیے روڈ میپ تیار کیا جا سکے ۔ اس میٹنگ کی صدارت ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور حکومت ہند کے وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری نے کرنل راجیہ وردھن راٹھور ، صنعت و تجارت ، نوجوانوں کے امور اور کھیل کود اور ہنر مندی ، روزگار اور صنعت کاری کے محکمے ، حکومت راجستھان کی موجودگی میں کی ۔ یہ جائزہ کوشل بھون میں من.

ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت میں مصنوعی ذہانت ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ

ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت میں مصنوعی ذہانت ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ

13 Feb 2026 | 5:56 PM

نئی دہلی، 13 فروری (یو این آئی) موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ تخلیقی صلاحیتوں سے لے کر ضابطہ بندی تک، ترقی کے تمام مروجہ اصولوں کو یکسر تبدیل کر رہی ہے۔ ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت، سرمایہ کاری اور روزگار کے شعبوں میں اے آئی ملک کو ایک روشن مستقبل کی سمت گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ .