featuresPosted at: Jan 9 2026 8:24PM اقلیتوں میں سرکاری اسکیموں کے تئیں بیداری پیداکرنے کی ضرورت

خصوصی مضمون :فہیم احمد
نئی دہلی ،9جنوری (یو این آئی) ہندوستان کی متنوع آبادی میں اہم مسلم کمیونٹی شامل ہے جو کل آبادی کا تقریباً 14.2فیصد بنتی ہے، ملک میں سماجی-معاشی تفاوت کو دور کرنے اور جامع ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہندنے وزارت اقلیتی امور کے ذریعے مختلف اسکیموں کا نفاذ کیا ہے جو اقلیتوں کے لیے ہیں، یہ اقدامات تعلیم، ہنرمندی کے فروغ ، معاشی طورپر بااختیار بنانے اور اقلیتوں کی اکثریت والے علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہیں۔مسلمان بھی سکھ، عیسائی، بدھ مت، جین اور پارسیوں کے ساتھ ان پروگراموں سے استفادہ کرنے کے اہل ہیں جو مواقع پیداکرنے اور عدم مساوات کم کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
جائزے سے پتہ چلتاہے کہ دیگراقلیتی کمیونٹیزکے مقابلے مسلمانوں کی اکثریت حکومت کی ان اسکیموں سے نابلدہے یا وہ اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے ۔یہ بات روز شن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کا فقدان ہے اور ان کے اندرشعورو بیداری پیداکرنے کی ضرورت ہے ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ دنیامیں جوکچھ ہے مذہبی اعتبار سے بھی اور سائنسی اعتبار سے بھی اسکا کچھ مقصدہے ،وہ چیزیں موجودہی اس لیے ہیں کہ کسی نہ کسی شکل میں انکی اہمیت ہے ،اورجوچیزیں اہمیت کھودیتی ہیں وہ ختم ہوجاتی ہیں ۔دنیامیں کوئی بھی بے فیض شے ہمیشہ اپنا وجود قائم نہیں رہ سکتی ۔
آج مسلمانوں کے تعلق سے بھی یہی سوال کیاجاسکتاہے۔مسلمانوں کی اپنی اہمیت اور افادیت کو ثابت کرناہوگا ۔چاہے وہ سماجی سطح پر ہو یا علم وسائنس یا کاروبار کی سطح پر ۔انسان حیوان ناطق ہے اس کے اندرشعور ہے ،سوچنے سمجھنے اور بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے ، پھر کیاوجہ ہے کہ ہندوستان میں وسیع تر کمیونٹیز جن میں ہندوکمیونٹی بھی آتی ہے ،کوچھوڑدیں تو صرف اقلیتی کمیونٹیز میں بھی مسلمان ہرشعبے میں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔اس سلسلے میں مسلم کمیونٹی کو از سرنو سنجیدگی سے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
بات سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے سے شروع ہوئی تھی تو آگے ایسی ہی چنداسکیموں کا ذکر لازمی ہوجاتاہے جس سے مسلمان اسفادہ کرسکتے ہیں ۔حکومت نے تعلیمی اعتبار سے بااختیاربنانے کے لیے اسکالرشپس اور فیلوشپس کا اہتمام کیاہے اسکالرشپس معاشی طور پر کمزور طبقات کے مسلم طلباء کے لیے سب سے زیادہ قابل رسائی ہیں۔
پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم:
یہ اسکیم کلاس 1 سے 10 تک کے اقلیتی طلباء کے لیے ہے جس کا مقصد درمیان میں ہی پڑھائی چھوڑنے والے طلبا کی شرح کم کرنا ہے۔ یہ داخلہ فیس، ٹیوشن اور امدادی وظیفہ کااحاطہ کرتی ہے۔ اس میں ڈے اسکالرز کے لیے ماہانہ600روپئے تک اورہاسٹل میں رہنے والے طلباکےلیےاس زیادہ رقم شامل ہے ۔
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم:
یہ اسکیم کلاس 11 سے پی ایچ ڈی تک کے طلباء کے لیے ہے، اس کے تحت ٹیوشن، داخلہ اور دیکھ بھال کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں ٹوایشن کے لیے سالانہ10000روپئے اورامدادی وظیفہ کےلیے3000سے 7000روپئے شامل ہیں ۔
میرٹ کم مینس اسکالرشپ اسکیم :
پیشہ وارانہ اور ٹیکنیکل کورسز کے لیے یہ اسکیم کورس فیس کے طورپر 30000روپئے تک اورامدادی وظیفہ کے طورپر سالانہ 20000روپئے کااحاطہ کرتی ہے ۔
اس کے علاوہ اقلیتی کمیونٹیز کی ہنرمندی کے فروغ اور انھیں معاشی طورپر بااختیار بنانے کے لیے بھی کئی سرکاری اسکمیںس ہیں جن میں پردھان منتری وراثت کا سموردھن (پی ایم وکاس )، اس میں سیکھو اور کماؤ اور نئی منزل جیسی اسکیموں کو ضم کردیاگیاہے۔اس کے علاوہ مفت کوچنگ اور متعلقہ اسکیم (نیاسویرا) بھی ہے جس کے تحت یوپی ایس سی ،ایس ایس سی ،بینکنگ جیسے مسابقتی امتحان او ر جے ای ای ،این ای ای ٹی جیسے داخلہ امتحانات کے لیے مفت کوچنگ فراہم کی جاتی ہے جس سے روزگار کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فائنانس کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی ) اسکیم بھی ہے جس کے تحت خودروزگار کے لیے رعایتی شرح پر قرض دیے جاتے ہیں جن میں 30لاکھ روپئے تک کے مدتی قرض اور اپنی مددآپ گروپوں (ایس ایچ جی ) کے توسط سے ایک لاکھ روپئے تک کے مائیکروفائنانس شامل ہیں ۔اس میں خواتین اور پیشہ وارانہ گروپوں کو ترجیح دی جاتی ہے ۔
پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم (پی ایم جے وی کے ) کے نام سے مرکز کی حمایت یافتہ ایک اور اہم اسکیم ہے جو 1300 اقلیتی اکثریتی علاقوں میں علاقائی ترقی کے لیے مخصوص ہے ۔یہ اسکیم صحت اور ہنرمندی پر توجہ مرکوزکرتی ہے ۔اس کے تحت پروجکٹو ں میں اسکول ،اسپتال اور ہوسٹلز شامل ہیں ۔
دیگرقابل ذکراسکیموں میں ایک 'پڑھو پردیش'ہے جس میں بیرون ملک تعلیمی قرض پر سود کی رعایت ملتی ہے ۔ اسی طرح سے 'نئی اڑان' اسکیم کے تحت یوپی ایس سی /ایس ایس سی پری لمز کلیئر کرنے کے بعد مینز کے لیے ایک سے دولاکھ مالی مدد ملتی ہے ۔اس کے علاوہ وزیراعظم کے 15نکاتی پروگرام کے تحت عام زمرے کی اسکیموں جیسے سورن جینتی گرام سواروزگار یوجنا اور اندراآواس یوجنا میں اس بات کو یقینی بنایاجاتاہے کہ اقلیتوں کومساوی حصہ ملے ۔
مندرجہ بالا اسکیموں کامقصدتعلیم، ہنر اور معاشی آزادی کو فروغ دیکر مسلم کمیونٹی کو ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں شامل کرنا ہے۔حکومت کے اقلیتی فلاح و بہبود کے پروگرام پسماندہ برادریوں کو تعلیم ، حفظان صحت ، معاشی مواقع اور بہتر حالات زندگی تک رسائی میں مدد کے لیے بنائے گئے ہیں ۔ یہ اقدامات افراد کو بااختیار بنانے ، اقلیتوں کو اپنے طور پر ترقی کرنے میں مدد کرنے پر مرکوز ہیں ۔ شمولیت کو فروغ دے کر ، اسکیموں کا مقصد ان برادریوں کی ترقی میں مدد کرنا ہے ، جو ہندوستان کی مجموعی سماجی اور اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرتی ہیں ۔ بالآخر ، مقصد ایک سے زیادہ مساوی معاشرے کی تعمیر کرنا ہے جہاں ہر شہری ، خاص طور پر اقلیتوں کے پاس وہ وسائل ہوں جن کی انہیں کامیابی اور قوم کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے ضرورت ہے ۔
حکومت کی کوششوں کے باجودہندوستان مں مسلمانوں کو روزگار کے اہم چلنجو ں کا سامنا ہے، جن مں باقاعدہ تنخواہ والی ملازمتوں مں کم نمائندگی، اور غری رسمی/خود ملازمت والے شعبے مںس ارتکاز شامل ہے، جس کی وجہ سے ان میں دیگر کمیونٹیز کے مقابلے کم آمدنی اور معاشی پسماندگی اورتعلیار فرق نمایاں ہے ۔
حکومت کی طرف سے کیے جانے والے ان اقدامات کے باجود اس بڑے اقلیتی فرقہ کے تعلق سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں میں ان کے تعلق سے بیداری کی کمی ہے جسے دورکیے جانے کی سخت ضرورت ہے۔مذکورہ بالااسکیموں کے بارے میں مسلمانوں میں بیداری پیداکرنے کے لیے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں ۔اس سلسلے میں ملی تنظیمیں حکومت کے نمائندوں کے تعاون سے مسلم اکثریتی علاقوں میں بیداری مہم چلاسکتی ہیں اور انھیں ان اسکیموں سے استفادہ حاصل کرنے کے طریقہ کار سے باخبرکرسکتی ہیں ۔یہ ایک پیچیدہ اور طویل مدتی عمل ہے ، اس کے ذریعہ جیسے جیسے اس کمیونٹی کے افراد باخبرہونگے انکے اندر شعورپیداہوگا تو وہ سماج کے مرکزی دھارے میں شامل ہونا شروع ہوجائیں گے اور خود اپنے ،اپنے سماج اور اپنے ملک کے لیے بہتر تعاون کرسکیں گے ، کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی سماج کے ہرطبقہ کے تعاون سے ہی ممکن ہے ۔
یواین آئی۔ایف اے