NationalPosted at: Jan 16 2026 5:33PM مسلم کونسل آف ایلڈرز کی جانب سے بین المذاہب مکالمہ پر اہم سمپوزیم

نئی دہلی، 16 جنوری (یو این آئی) مشہور روحانی محقق، انسدادِ انتہاپسندی اور امن کے سرگرم کارکن گیانی جسکیرت سنگھ نے انسانی اخوت کے دستاویز کوایک تبدیلی آفرین اقدام قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی بین المذاہب مکالمہ اس بنیادی حقیقت کے اعتراف سے شروع ہونا چاہیے کہ 'انسان ہونے کے ناطے ہم سب برابر ہیں'۔یہ بات انہوں نے عالمی کتاب میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی طرف سےمنعقدہ'انسانی اخوت کے دستاویز کی روح پر بین المذاہب مکالمہ' کے عنوان سے اپنا دوسرا سیمینار میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصور دنیا کو پائیدار امن کی تعمیر کے لیے درکار سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ امن، اختلافات کو نمایاں کرنے سے نہیں، بلکہ اُن گہری مشترک قدروں کی شناخت سے جنم لیتا ہے جو تمام انسانوں میں مشترک ہیں۔ انہوں نے اس خیال پر بھی روشنی ڈالی کہ اندرونی کشمکش اکثر بیرونی انتشار کا سبب بنتی ہے اور یہ کہ 'خیالات، عقائد، ثقافت یا روایت سے ماورا حقیقی امن ہماری مشترکہ انسانیت کے شعور میں بیداری اور دوسروں کے دکھ درد کے لیے حساس ہونے سے پیدا ہوتا ہے'۔ ان کے بقول، بین المذاہب بیٹھکیں اور مکالمے اسی ازسرِنو دریافت کے لیے سازگار فضا فراہم کرتے ہیں۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بین الاقوامی مطالعات کے پروفیسر ڈاکٹر پی آر کمارسوامی نے انسانی اخوت کے دستاویز کو ایک جامع، لازمانی اور محض رواداری کے بجائے برابری کے بنیادی اصول پر استوار قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایک ایسا'راہنما نقشہ (روڈمیپ) کہا جو مکمل ہو کر ٹھہر جانے والی دستاویز نہیں، بلکہ مسلسل نکھار اور عملی نفاذ کی دعوت دیتا ہے'۔
کمارسوامی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حقیقی مکالمہ برابری، باہمی احترام اور مختلف مذاہب کے درمیان مشترک اقدار پر توجہ دینے کے جذبے پر قائم ہوتا ہے، تاکہ ناگزیراختلافات کو بہتر طور پرسنبھالا جاسکے۔
اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں انگریزی زبان وادب کے پروفیسر ڈاکٹر راجیش کمار نے انسانی اخوت کے دستاویز کو 'آج کی اخلاقی ضرورت قرار دیا'۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اخوت کی روح کو مضبوط بنانے کے لیے ممتاز عیسائی اورمسلم شخصیات کی جانب سے دستخط شدہ یہ دستاویز، ہندوستانی آئین میں وقار کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے لیے اخوت پر دیے گئے زور سے گہری ہم آہنگی رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس دستاویز کا بنیادی جوہر دوسروں کو'بھائی یا بہن'کے طور پر دیکھنے میں مضمر ہے۔
سیمینار کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انسانی اخوت کا دستاویز جدید چیلنجوں—خواہ وہ انتہاپسندی ہوں، معاشرتی تقسیم ہو یا ثقافتی انتشار—سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر فریم ورک فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ انسانی وقار اور مشترکہ ذمہ داری میں جڑی ہوئی لازمانی اقدار کو ازسرِنو متحرک کرتا ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کو ایک مستقل اور فعال عمل بنایا جائے، تاکہ معاشرے تعصبات اور دقیانوسی تصورات سے آگے بڑھ کر حقیقی بقائے باہمی کی طرف پیش قدمی کرسکیں۔
اس نشست میں ممتاز علماء، دانشوروں اور امن کے علمبرداروں نے شرکت کی، جہاں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ انسانی اخوت کے دستاویز کے اصول کس طرح معاشروں کی رہنمائی کرتے ہوئے گہری تفہیم، پُرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔