InternationalPosted at: Nov 18 2025 10:31AM جاپان نے سفارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ افسران کو چین بھیجا

ٹوکیو/بیجنگ، 18 نومبر (یو این آئی) جاپان نے چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی دو طرفہ کشیدگی کے درمیان اپنے وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر کو چین بھیجا ہے تاکہ تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔ یہ قدم ٹوکیو اور بیجنگ کے درمیان سیاسی اختلافات کے بعد اٹھایا گیا، جن کی وجہ سے دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان مختصر فوجی اور سفارتی جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔
جاپانی میڈیا نے پیر کو کہا کہ جاپانی وزارتِ خارجہ کے ایشیائی و بحرالکاہلی امور کے بیورو کے ڈائریکٹر جنرل ماساکی کنائی کی چینی وزارتِ خارجہ کے ایشیائی امور کے محکمے کے سربراہ لیو جن سونگ سے ملاقات کی امید ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کچھ عرصے سے فوجی اور سفارتی تنازعات میں الجھے ہوئے تھے۔
ان واقعات میں تائیوان کے قرب و جوار کے ایک جزیرے کے پاس مشتبہ چینی ڈرون کی موجودگی کے بعد جاپان کی جانب سے اپنے یوناگونی جزیرے کے قریب لڑاکا طیاروں کی تعیناتی، جاپان کے سینکاکو جزائر کے ارد گرد چینی کوسٹ گارڈ اور بحریہ کے جہازوں کی مسلسل دراندازی اور جاپان میں مقیم ایک چینی سفارتکار کی جانب سے وزیرِ اعظم سینے تاکائچی کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے انہیں پرتشدد دھمکی دینا شامل ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا سفارتی تنازع شروع ہو گیا۔
مسٹر کنائی کے دورے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری مِنورُو کیہارا نے چین پر تنقید کرتے ہوئے یہ اعادہ کیا کہ بیجنگ کے حالیہ اقدامات گزشتہ ماہ کے آخر میں صدر شی جن پنگ اور محترمہ تاکائچی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اتفاقِ رائے کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیانات ایک مستحکم اور تعمیری تعلقات قائم کرنے کے لیے غیر موزوں ہیں۔
حالیہ دنوں میں چین۔جاپان تعلقات میں شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب وزیرِ اعظم تاکائچی نے اس ہفتے کے آغاز میں ارکانِ پارلیمان سے کہا کہ تائیوان پر چین کے کسی بھی فرضی حملے کی صورت میں جاپان کی جانب سے فوجی کارروائی شروع کی جائے گی۔ اس بیان سے بیجنگ میں شدید ردّعمل پیدا ہوا، جس کے جواب میں چین نے اپنے سمندری گشت اور اشتعال انگیز سیاسی بیانات میں اضافہ کر دیا۔
یہ سفارتی مشن ممکنہ دو طرفہ رابطوں کی تمہید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ وزیرِ اعظم تاکائچی اور چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ دونوں اس ہفتے کے آخر میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی-20 اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں، جہاں وہ براہِ راست اعلیٰ سطحی گفتگو کے ذریعے کشیدگی میں کمی لا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔