Wednesday, Jul 22 2026 | Time 01:38 Hrs(IST)
National

دہشت گردی کی مالی معاونت کی جانچ: ای ڈی نے الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ کئی مقامات پر چھاپے مارے

دہشت گردی کی مالی معاونت کی جانچ: ای ڈی نے الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ کئی مقامات پر چھاپے مارے

نئی دہلی، 18 نومبر (یو این آئی) دہلی دھماکہ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی اور دہلی کے اوکھلا میں واقع اس کے دفتر سمیت 25 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
یہ کارروائی دہلی میں لال قلعے کے قریب ہوئے دھماکے سے منسلک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی بڑے پیمانے پر کی جانے والی تحقیقات کا حصہ ہے۔ اس دھماکے میں 15 افراد کی موت ہوگئی تھی۔
ای ڈی کی ٹیموں نے منگل کی صبح 5:15 بجے شروع ہوئے ایک آپریشن میں الفلاح یونیورسٹی کے اوکھلا دفتر سمیت دہلی-این سی آر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ جانچ کا مقصد اُس مالیاتی نیٹ ورک کا سراغ لگانا ہے جس نے دھماکہ کرنے والوں کی مدد کی تھی۔
یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ ایک ڈاکٹر، ڈاکٹر عمر نبی کی شناخت اُس آئی 20 کار کے ڈرائیور کے طور پر ہوئی جس میں دھماکہ ہوا تھا۔ ابتدا میں یونیورسٹی نےخود کوڈاکٹر عمر نبی سے الگ کر لیا تھا، لیکن بعد ازاں دہلی کرائم برانچ اور ہریانہ پولیس کی تفتیش میں ادارے کے اندر بڑے پیمانے پر مالی دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا۔ اس کے بعد ای ڈی نے مداخلت کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کی جانچ شروع کی۔
اس کارروائی نے مالی دھوکہ دہی کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ الفلاح گروپ سے منسلک کم از کم نو فرضی کمپنیاں ایک ہی پتے پر رجسٹرڈ ہیں اور سبھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔
ای ڈی کے ایک سینئر افسر نے کہا،’’الفلاح ٹرسٹ اور اس سے وابستہ اداروں کے کردار پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ہم اُن اہم افسران کی جانچ کر رہے ہیں جو مالیات اور انتظامیہ کی نگرانی کرتے ہیں۔‘‘
تحقیقات میں یونیورسٹی کے یو جی سی (یو جی سی)اور این اے اے سی(این اے اے سی)سے منظوری کے دعوؤں میں ابتدائی طور پر تضاد پایا گیا۔ ان پہلوؤں کی متعلقہ انضباطی اتھارٹیز سے تصدیق کی جا رہی ہے۔ پولیس کی ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی کی جانچ اب صرف دہشت گردی سے متعلق تفتیش نہیں رہی بلکہ یہ ایک پیچیدہ مالیاتی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے معاملے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو ادارے کے مالی جرائم اور دھماکے کے ملزمین کی سرگرمیوں کے درمیان گہرے رابطے کی نشاندہی کرتی ہے۔
یو این آئی - م ک۔ایس وائی۔

خاص خبریں
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو پولیس نے  لیا حراست میں

وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو پولیس نے لیا حراست میں

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کے کچھ دیگر رہنماؤں کو منگل کو وزیراعظم کی رہائش گاہ کے پاس دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے اچانک دھرنے پر بیٹھنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی دہلی پولیس نے وہاں کارروائی کی اور مسٹر گاندھی نیز دیگر کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تین گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلے ایک ڈرامائی واقعے میں مسٹر گاندھی کو حراست میں لیے جانے سے پہلے وزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے دھرنے کی جگہ پر جا کر ان سے دھرنا ختم کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی۔

...مزید دیکھیں
طلبا کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے برلا سے ملے راہل

طلبا کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے برلا سے ملے راہل

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی اور کچھ دیگر پارٹیوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے منگل کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کر کے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑا سنگین موضوع ہے اور اس پر ایوان میں وسیع بحث ہونی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
نیٹ پیپر لیک معاملے کے خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا- مودی

نیٹ پیپر لیک معاملے کے خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا- مودی

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی مرکزی وزیرِ برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا، "نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) کے بارے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ گڑبڑ کی خبریں ملنے پر سرکار نے فوری کارروائی کی۔

...مزید دیکھیں
دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی

دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو سماجی کارکن سونم وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی عدالت نے تبصرہ کیا کہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ان کی جاری بھوک ہڑتال کی وجہ سے انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔

...مزید دیکھیں
طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب  : راہل

طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب : راہل

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی نے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہ کرائے جانے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بحث کرانے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے سرکار سے اجازت لینی ہوگی مسٹر گاندھی نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
جنتر منتر لاٹھی چارج پر طلبہ کو قانونی اور میڈیکل امداد فراہم کرے گی عآپ : کیجریوال

جنتر منتر لاٹھی چارج پر طلبہ کو قانونی اور میڈیکل امداد فراہم کرے گی عآپ : کیجریوال

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران مبینہ لاٹھی چارج اور اس کے بعد طلبہ پر درج مقدمات کے تعلق سے منگل کو مرکزی سرکار پر شدید حملہ بولا مسٹر کیجریوال نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ پرامن مظاہرہ کر رہے طلبہ پر پولیس نے حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔

...مزید دیکھیں
دہلی کے لال ڈورا علاقوں کو ملے گا ڈیجیٹل پراپرٹی  کا حق: ریکھا گپتا

دہلی کے لال ڈورا علاقوں کو ملے گا ڈیجیٹل پراپرٹی کا حق: ریکھا گپتا

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) دہلی سرکار نے راجدھانی کے لال ڈورا اور گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو ان کی جائیدادوں کا محفوظ اور ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو محکمۂ محصولات کی جائزہ میٹنگ میں مرکزی سرکار کی 'سوامتوا یوجنا' کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

...مزید دیکھیں

دہلی پولیس کی کارروائی جمہوریت پر حملہ ہے، مودی، امت شاہ اور دھرمیندر پردھان مستعفی ہو جائیں: رندھاوا

21 Jul 2026 | 10:42 PM

چنڈی گڑھ/نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلی سکھجندر سنگھ رندھاوا نے دہلی میں نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کے احتجاج کے دوران ممبران پارلیمنٹ اور کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ اسے جمہوری حقوق کا دبائو قرار دیتے ہوئے انہوں نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ منگل کو یہاں جاری ایک بیان میں مسٹر رندھاوا نے کہا کہ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ اور کارکنان طلباء کے مستقبل اور امتحان میں مبینہ بے ضابطگ.