نئی دہلی، 10 نومبر (یو این آئی) قومی دارالحکومت میں لال قلعہ کے سامنے ٹریفک سگنل پر پیر کی شام ایک کار میں ہوئے زبردست دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ 24 دیگر زخمی ہوگئے یہ دھماکہ ایک آئی20 کار میں ہوا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آس پاس کی کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور کچھ گاڑیوں کے پرخچے اڑ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز کافی دور تک سنائی دی۔
دھماکے میں مرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بتایا کہ معاملے کی ہر زاویے سے گہری جانچ کی جائے گی۔ تمام امکانات کی فوری جانچ کرکے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے واقعے کے بعد دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا اور اسپیشل سیل کے انچارج سے بات کی۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ این ایس جی اور این آئی اے کی ٹیم ایف ایس ایل کے ساتھ مل کر تحقیقات شروع کر چکی ہے۔
دھماکے کے کچھ دیر بعد ہی وزیراعظم نریندر مودی نے مسٹر شاہ سے بات کی اور صورتحال کی معلومات حاصل کیں۔ مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے ایل این جے پی اسپتال میں جا کر زخمیوں کی عیادت کی اور اس کے بعد دھماکے کی جگہ کا معائنہ کیا۔
ایل این جے پی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بی ایل چودھری نے بتایا کہ اسپتال میں آٹھ لاشیں لائی گئی ہیں اور کئی زخمی ہیں۔
واقعہ کے فوراً بعد دہلی پولیس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کے افسران موقع پر پہنچ گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ آس پاس کے سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج بھی کھنگالے جا رہے ہیں۔
واقعہ کے بعد دہلی سمیت پڑوسی ریاستوں اتر پردیش اور ہریانہ کے علاوہ کچھ دیگر ریاستوں میں بھی ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
مسٹر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر صحت جے پی نڈا اور کئی دیگر رہنماؤں نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔