Wednesday, Jul 22 2026 | Time 00:59 Hrs(IST)
National

امریکی سینیٹ کا ہائر ایکٹ ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث: کانگریس

امریکی سینیٹ کا ہائر ایکٹ ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث: کانگریس

نئی دہلی، 4 نومبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ میں ’ہائر ایکٹ‘ پیش کیا گیا ہے، جو ہندوستانی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت ہند کو اس کے چیلنجوں سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر غور کرنا چاہیے کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے منگل کے روز یہاں ایک بیان میں کہا کہ امریکی سینیٹ میں اوہائیو کے سینیٹر برنی مورینو نے ’ہالٹنگ انٹرنیشنل ری لوکیشن آف ایمپلائمنٹ ایکٹ‘ یعنی ’ہائر ایکٹ‘ پیش کیا ہے، جو بین الاقوامی روزگار کی منتقلی کو روکنے سے متعلق ہے۔ اگر یہ ایکٹ منظور ہو گیا تو اس کا ہندوستانی معیشت پر گہرا اثر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس بل کو سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے، اس میں ان تمام امریکی افراد اور کمپنیوں پر 25 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، جو غیر ملکی کمپنیوں یا افراد کو ایسے کام کے لیے ادائیگی کرتے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ امریکی صارفین کو پہنچتا ہے۔ اس ایکٹ کو آؤٹ سورسنگ کی ادائیگی کی ایک نئی تعریف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مسٹر رمیش کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بل ہندوستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سیکٹر، بی پی او، کنسلٹنگ سروسز اور گلوبل کیپبیلیٹی سینٹرز پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں، بلکہ آئرلینڈ، اسرائیل اور فلپائن جیسے ممالک کو بھی اس سے نقصان ہو سکتا ہے، لیکن سب سے زیادہ اثر ہندوستان کی سروس ایکسپورٹ انڈسٹری پر پڑنے کا اندیشہ ہے، جو گزشتہ 25 برسوں سے ہماری معیشت کا سب سے مضبوط ستون رہی ہے۔
بل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ قدم امریکہ میں بڑھتی ہوئی اُس سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس کے مطابق ’بلو کالر‘ نوکریاں چین کو جا چکی ہیں، اس لیے اب ’وائٹ کالر‘ نوکریاں ہندوستان کو نہیں دی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس میں ہندوستان-امریکہ اقتصادی تعلقات کو کئی جھٹکے لگے ہیں، اور ’ہائر ایکٹ‘ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل اپنی موجودہ شکل میں منظور بھی ہو سکتا ہے یا اس میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ بل حقیقت بن جاتا ہے تو ہندوستانی معیشت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹر مورینو کی یہ تجویز امریکی سیاسی اور معاشی حلقوں میں سنگین بحث کا موضوع بن سکتی ہے، مگر ہندوستانی آئی ٹی صنعت اور پالیسی سازوں کی نظریں اب اس بل کی آئندہ پیش رفت پر مرکوز رہیں گی۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایس وائی۔

خاص خبریں
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو پولیس نے  لیا حراست میں

وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو پولیس نے لیا حراست میں

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کے کچھ دیگر رہنماؤں کو منگل کو وزیراعظم کی رہائش گاہ کے پاس دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے اچانک دھرنے پر بیٹھنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی دہلی پولیس نے وہاں کارروائی کی اور مسٹر گاندھی نیز دیگر کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تین گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلے ایک ڈرامائی واقعے میں مسٹر گاندھی کو حراست میں لیے جانے سے پہلے وزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے دھرنے کی جگہ پر جا کر ان سے دھرنا ختم کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی۔

...مزید دیکھیں
طلبا کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے برلا سے ملے راہل

طلبا کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے برلا سے ملے راہل

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی اور کچھ دیگر پارٹیوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے منگل کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کر کے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑا سنگین موضوع ہے اور اس پر ایوان میں وسیع بحث ہونی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
نیٹ پیپر لیک معاملے کے خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا- مودی

نیٹ پیپر لیک معاملے کے خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا- مودی

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی مرکزی وزیرِ برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا، "نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) کے بارے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ گڑبڑ کی خبریں ملنے پر سرکار نے فوری کارروائی کی۔

...مزید دیکھیں
دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی

دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو سماجی کارکن سونم وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی عدالت نے تبصرہ کیا کہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ان کی جاری بھوک ہڑتال کی وجہ سے انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔

...مزید دیکھیں
طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب  : راہل

طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب : راہل

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی نے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہ کرائے جانے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بحث کرانے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے سرکار سے اجازت لینی ہوگی مسٹر گاندھی نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
جنتر منتر لاٹھی چارج پر طلبہ کو قانونی اور میڈیکل امداد فراہم کرے گی عآپ : کیجریوال

جنتر منتر لاٹھی چارج پر طلبہ کو قانونی اور میڈیکل امداد فراہم کرے گی عآپ : کیجریوال

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران مبینہ لاٹھی چارج اور اس کے بعد طلبہ پر درج مقدمات کے تعلق سے منگل کو مرکزی سرکار پر شدید حملہ بولا مسٹر کیجریوال نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ پرامن مظاہرہ کر رہے طلبہ پر پولیس نے حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔

...مزید دیکھیں
دہلی کے لال ڈورا علاقوں کو ملے گا ڈیجیٹل پراپرٹی  کا حق: ریکھا گپتا

دہلی کے لال ڈورا علاقوں کو ملے گا ڈیجیٹل پراپرٹی کا حق: ریکھا گپتا

نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) دہلی سرکار نے راجدھانی کے لال ڈورا اور گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو ان کی جائیدادوں کا محفوظ اور ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو محکمۂ محصولات کی جائزہ میٹنگ میں مرکزی سرکار کی 'سوامتوا یوجنا' کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

...مزید دیکھیں

دہلی پولیس کی کارروائی جمہوریت پر حملہ ہے، مودی، امت شاہ اور دھرمیندر پردھان مستعفی ہو جائیں: رندھاوا

21 Jul 2026 | 10:42 PM

چنڈی گڑھ/نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلی سکھجندر سنگھ رندھاوا نے دہلی میں نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کے احتجاج کے دوران ممبران پارلیمنٹ اور کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ اسے جمہوری حقوق کا دبائو قرار دیتے ہوئے انہوں نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ منگل کو یہاں جاری ایک بیان میں مسٹر رندھاوا نے کہا کہ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ اور کارکنان طلباء کے مستقبل اور امتحان میں مبینہ بے ضابطگ.