Science TechnologyPosted at: Jun 5 2026 2:58PM دہلی ہائی کورٹ نے چین سے ہیلوسلفیوران میتھائل ہربیسائیڈ کی درآمد پر لگائی روک

نئی دہلی، 05 جون (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ نے زرعی کیمیکلز اور عوامی تحفظ سے جڑے معاملات میں ریگولیٹری معیارات کی سختی سے تعمیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، دہلی میں واقع کمپنی 'کرسٹل کراپ پروٹیکشن لمیٹڈ' (سی سی پی ایل) کو ہربیسائیڈ 'ہیلوسلفیوران میتھائل' کی درآمد اور تیاری کے لیے دیا گیا رجسٹریشن منسوخ کر دیا ہے یہ کیمیکل گنے اور مکے جیسی فصلوں کےساتھ اگنے والی گھاس کوختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جسٹس سی ہری شنکر اور جسٹس اوم پرکاش شکلا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔ سی سی پی ایل کو 2011 میں سنگاپور کی کمپنی 'فرٹی اگرو' کے ذریعے تیار اور سپلائی کیے گئے نمونوں کی درآمد کی اجازت ملی تھی۔ بعد میں کمپنی نے 2016 میں چین کی 'جیانگ سو اگرو کیمیکلز' کے ذریعے تیار کردہ اور 'ہیبی بیسٹار' کے ذریعے سپلائی کیے جانے والے 'ہیلوسلفیوران میتھائل 98 فیصد' کی درآمد کے لیے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی درخواست دی۔
ہائی کورٹ نے پایا کہ رجسٹریشن کمیٹی نے یہ سرٹیفکیٹ اس صورتحال میں جاری کر دیا، جبکہ یہ ظاہر کرنے والا کوئی ٹھوس ریکارڈ دستیاب نہیں تھا کہ جیانگ سو اگرو کیمیکلز کو 2011 میں اس پروڈکٹ کی تیاری کی اجازت حاصل تھی۔ عدالت نے ذکر کیا کہ مذکورہ کمپنی کو ہیلوسلفیوران میتھائل 98 فیصد کی تیاری کے لیے عارضی رجسٹریشن اکتوبر 2018 میں ملا تھا۔ عدالت نے کہا کہ کیڑے مار ادویات (انسکٹیسائیڈز) ایکٹ کی دفعہ 9(3) کے تحت رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرنا واضح طور پر غیر قانونی تھا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب سی سی پی ایل ہیلوسلفیوران میتھائل 98 فیصد کی درآمد یا ہیلوسلفیوران میتھائل 75 فیصد ڈبلیو جی کی گھریلو تیاری نہیں کر سکے گی۔
عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں کہا کہ بغیر جانچ یا غیر مجاز مینوفیکچرر سے حاصل کردہ کیڑے مار ادویات اور زرعی کیمیکلز کی درآمد اور استعمال سے انسانی اور حیوانی زندگی کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی سنگین منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے معاملات میں ریگولیٹری عمل کی مکمل تعمیل کی جانی ضروری ہے۔ یہ حکم 'دھنوکا ایگری ٹیک لمیٹڈ' کی طرف سے دائر کردہ لیٹرز پیٹنٹ اپیل پر سماعت کے دوران پاس کیا گیا۔ کمپنی کی جانب سے سپریم کورٹ کی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ شوبھا رام مورتی نے موقف پیش کیا۔
یواین آئی۔ایف اے