Science TechnologyPosted at: May 19 2026 5:32PM چندریان-3 کے ہاپ تجربے سے چاند کے جنوبی قطب کے نئے راز آشکار

چنئی، 19 مئی (یو این آئی) ہندوستان کے تیسرے قمری مشن چندریان-3 کے وکرم لینڈر کی جانب سے کیے گئے "ہاپ" تجربے نے چاند کے جنوبی قطب سے متعلق کئی پوشیدہ رازوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس تجربے کے ذریعے چاند کی سطح پر موجود ریگولِتھ ہیٹروجینیٹی کا پتہ لگایا ہے، جسے مستقبل کے قمری مشنوں کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ان نتائج سے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں سطحی مہمات سے متعلق نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر سطحی تنوع کو سمجھنا مستقبل میں چاند پر سائنسی اڈے اور رہائشی ڈھانچے تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے۔ یہ تحقیق اپنی نوعیت کی پہلی منفرد مثال مانی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ چندریان-3 کا وکرم لینڈر 23 اگست 2023 کو کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح پر اترا تھا۔ تقریباً 10 دنوں تک چاند کی سطح، سطح کے قریب پلازما اور زلزلہ نما سرگرمیوں سے متعلق تجربات انجام دینے کے بعد، 2 ستمبر 2023 کو لینڈر نے بچا ہوا ایندھن استعمال کرتے ہوئے "ہاپ" تجربہ کیا تھا۔
ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) نے منگل کے روز بتایا کہ یہ "ہاپ" تجربہ مستقبل میں چاند سے نمونے زمین پر واپس لانے والے مشنوں کے لیے ایک اہم تکنیکی صلاحیت ثابت ہوا ہے۔ اسرو کے مطابق جسے عام طور پر "چاند کی مٹی" کہا جاتا ہے، اس کا سائنسی نام "لونر ریگولِتھ" ہے۔ یہ دراصل چٹانوں کے ٹوٹنے سے بننے والے نہایت باریک، نوکیلے اور شیشے جیسے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے، جو بے حد کھردرے ہوتے ہیں اور جامد برقی رو کی طرح ہر چیز سے چپک جاتے ہیں۔
اسرو کے مطابق چندر ریگولِتھ کی حرارتی اور طبعی خصوصیات کو سمجھنا سائنسی اور تکنیکی دونوں اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ اس کی حرارتی و طبعی خصوصیات اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ چاند سورج سے حاصل ہونے والی حرارت کو کس طرح جذب کرتا ہے اور پھر اسے خلا میں واپس خارج کرتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ع