NationalPosted at: Sep 13 2025 8:28PM دونوں ایوانوں میں منصوبہ بند تعطل باعث تشویش:لوک سبھا اسپیکر اوم برلا

نئی دہلی، 13 ستمبر (یو این آئی) لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا ہے کہ ایوانوں میں بڑھتا ہوا منصوبہ بند تعطل ہم سب کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے، اس لیے اسے ختم کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں منعقدہ 11ویں کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن - انڈیا ریجن کانفرنس کے اختتام پر ہفتہ کو اپنے خطاب میں مسٹراوم برلا نے کہا کہ ایوانوں میں بڑھتا ہوا منصوبہ بند تعطل ہم سب کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔ اس رجحان کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ وسیع اور بامعنی مذاکرات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے کا ہونا فطری بات ہے کیونکہ یہی جمہوریت کی روح ہے۔ ان اختلافات کے باوجود بات چیت اور مکالمے کو کبھی نہیں روکنا چاہیے۔ عوام کی امنگوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہمارے قانون ساز اداروں کو زیادہ شفاف اور جوابدہ ہونا ہو گا اور اس کے لیے تکنیکی ذرائع کو مثبت اور احسن طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ مقننہ کی لائبریری، تحقیق اور حوالہ جاتی برانچوں کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ ایوانوں میں بحث زیادہ تیز، بامعنی اور حقائق پر مبنی ہو۔ جمہوریت میں اختلاف رائے بھی ایک بنیادی قدر ہے۔ لہٰذا اختلاف کو پختگی اور تحمل کے ساتھ قبول کرنا چاہیے اور بحث کو مسائل تک محدود رکھنا چاہیے نہ کہ ذاتی الزامات اور جوابی الزامات تک۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے آج زیادہ تر اسمبلیوں میں عوام تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ آنے والے وقتوں میں ڈیجیٹلائزیشن کا مزید مثبت استعمال کرتے ہوئے عوام اور مقننہ کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ ہندوستان کی جمہوریت اور آئین آج پوری دنیا کے لیے رہنما بن چکے ہیں۔ ایسے میں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اداروں کو مزید مضبوط، متاثر کن اور مثالی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس نے ہمیں مشترکہ ذمہ داریوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی ترغیب دی ہے۔ اگر ہم ریاستوں کی کامیابیوں اور بہترین طریقوں کو اپنی مقننہ میں نافذ کریں گے تو جمہوریت یقینی طور پر زیادہ شفاف اور شراکت دار ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2047 تک وکست بھارت کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کا راستہ ہماری مقننہ کے فعال، مثبت اور عوام پر مرکوز کردار سے ہی ہموار ہوگا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف