featuresPosted at: Jan 12 2026 11:26PM ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم:شاد عظیم آبادی

خصوصی مضمون: ڈاکٹر شگفتہ یاسمین
نئی دہلی، ۱۰ جنوری (ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، یو این آئی) اردو کے اہم دبستانوں میں دبستان دکن ، دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ کے بعد ایک اہم ترین نام دبستان عظیم آباد کا ہے، نظم ہو یا نثر اس کے خزینے میں بے شمار لعل و گہرموجود ہیں، شعر وسخن کی بات کریں تو عبدالمنان بیدل، ثاقب عظیم آبادی، بسمل عظیم آبادی ،جمیل مظہری، کلیم عاجز، پرویز شاہدی، رمزعظیم آبادی، کیف عظیم آبادی، مظہر امام اور شکیب ایاز وغیرہ کے ساتھ جو نام اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے وہ شاد عظیم آبادی کا ہے۔ ان کی خدمات اور تخلیقات نے نہ صرف اردو کے ادبی سرمائے کو مالامال کیا بلکہ اپنے عہد کے ملکی مسائل و موضوعات کے ساتھ ساتھ دبستان عظیم آباد کی سماجی ، ادبی اورتہذیبی قدروں کی ترجمانی بھی کی ۔
شاد عظیم آبادی 1846 میں عظیم آباد ( پٹنہ ) کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید علی محمد تھا، والد سید تفضل حسین کا شمار پٹنہ کے عمائدین میں ہوتا تھا ۔ گھر کا ما حول مذہبی اور ادبی تھا۔ شاد بچپن سے ہی بہت ذہین تھے اور دس برس کی عمر میں ہی انہوں نے فارسی اور عربی زبان وادب پر خاصا عبورحاصل کر لیا تھا اسی دوران وہ شعر بھی کہنے لگے تھے۔ والدین ان کی شعر گوئی کے مخالف تھے لیکن شاد ان سے چھپ کر شاعری کرتے رہے اور سید الطاف حسین فریاد کی شاگردی اختیار کرلی تھی۔ مطالعہ کے حد سے بڑھے ہوئے شوق اور شب بیداری کی وجہ سے ضعف معدہ اور اختلاج قلب کے مریض بن گئے لیکن اپنی روش نہیں بدلی ۔
مخزن کے مدیر عبدالقادری سروری پٹنہ آئے توان کی ملاقات شاد سے ہوئی شاد کی شاعری نے انہیں بہت متأثر کیا اور وہ شاد کا کلام اپنے رسالے میں شائع کرنے لگے اور یہیں سے شاعر کے طور پر ان کی شہرت کا آغازہوا۔ شاد نے یوں تو ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی ۔ غزل ، مرثیے، رباعیاں، قطعات، مخمس اور مسدس سب کچھ لکھا لیکن ان کی شہرت و مقبولیت کا سبب ان کی غزلیں ہیں جو سادگی و گھلاوٹ ، ترنم و شیرینی ، کیف وسروراور تازگی و تاثیر میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ شاد ایک اچھے نثر نگار بھی تھے جنہوں نے ناول ، سوانح، تذکرہ، مکتوبات و مضامین سبھی میں طبع آزمائی کی۔ شاد کی نثری کتابوں میں سب سے پہلے جو کتاب منظر عام پر آئی وہ نقش پائیدارہے جو1876 میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی۔ ’ مراۃ الابصار‘ ’ تاریخ صوبہ بہار‘ اور ’نقش پائدار‘ کے عنوان سے موجود یہ تحریریں صوبۂ بہار کا تاریخی منظر نامہ ہے ۔ شاد نے اس کے ہر ایڈیشن میں اسے خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کی مگر اسے زیادہ مقبولیت نہیں مل سکی۔ شاد کی نثر نگاری کی ایک اور جہت ان کی سوانح نگاری ہے۔ ’ حیات فریاد ‘اور ’ شاد کی کہانی شاد کی زبانی ‘ان کی دو سوانحی کتابیں ہیں ۔’ حیات فریاد ‘ شاد کے استاذ الفت حسین فریاد کی سوانح عمری ہے ۔ 375 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو شاد نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مکمل کیا اور اتنی محنت شاقہ کی کہ بقول مسلم عظیم آبادی ’ رہی سہی قوت بینائی بھی کھو بیٹھے ‘۔
شاد سر سید احمد کی اصلاحی تحریک اور آپ کے رفقاء کی تحریروں سے کافی متاثر تھے۔ ان دنوں ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں ’ مرأۃ العروس‘ اور’ بنات النعش‘ کی دھوم تھی ۔ شاد ایک اچھے نثر نگار تھے اصلاح معاشرہ کا جذبہ ان کے دل میں بھی تھا لہذا 1876 میں انہوں نے ’ صورۃ الخیال ‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھا اور یہ ناول صوبۂ بہار میں اردو ناول کا نقش اول قرار پایا۔ ’ صورۃ الخیال ‘ ’ ہیٔتہ المقال ‘ اور’ حلیتہ الکمال‘ کے نام سے تین حصوں پر مشتمل یہ ناول ’ ولایتی کی آپ بیتی ‘کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے پہلے حصے یعنی ’ صورۃ الخیال ‘ پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ بنگلہ ناول ’ اندیرا ‘ کا چربہ ہے۔ پروفیسر آصفہ واسع کے علاوہ پروفیسر وہاب اشرفی نے بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
’’ دونوں ناولوں کی مشابہت یہ سمجھنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاد نے بنگلہ ناول ’اندیرا‘ صرف سنا ہی نہ ہو گا بلکہ با ضابطہ ان کے پاس اس کا کوئی ترجمہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔ پھر بھی ’ صورۃ الخیال کے مصنف نے ’ اندیرا ‘ کے قصےکوجوں کا توں قبول نہیں کیا بلکہ اس میں مسلمانوں کی مخصوص معاشرت کے پیش نظر اردو انتخاب سے کام لیا گیا ہے۔ اس لیے کچھ نئے واقعات بھی تخلیق کیے گئے ہیں ۔ ناول ’اندیرا کا ترجمہ شاد کے پاس کیسے پہنچا اس کے بارے میں تقریباً سبھی سرکردہ محققین و ناقدین کا خیال ہے کہ اس ناول کا ابتدائی حصہ واقعی شاد کا لکھا ہوا نہیں ہے یہ حصہ منشی اعظم علی اورحسن علی کے ذریعے اصلاح کی غرض سے شاد تک پہنچا تھا۔ شاد نے اس کی نوک پلک سنواری، زبان وبیان میں اصلاح اور پلاٹ میں ترمیم و اضافہ کرکے اسے اپنے نام سے شائع کرا لیا لیکن اپنی آپ بیتی میں شاد نے صرف ’ اندیرا ‘ کی کہانی سے متاثر ہونے کا ہی اعتراف ہی کیا ہے ۔‘‘
معاملہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن شاد کی اصلاحی فکراور تعمیری نقطۂ نظر سے انکارممکن نہیں۔انہوں نے کئی ناول لکھے جن میں ان کا ناول ’ پیر علی‘ جو جنگ آزادی کے موضوع پر اردو کا پہلا ناول ہے اور اردو و ہندی دونوں زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ ۔
شاد عظیم آبادی انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے شاعر ہیں ۔اس زمانے میں جب غزل پر اعتراضات ہو رہے تھے ۔ حالی ’ مقدمہ شعر وشاعری‘ کے ذریعے غزل کو’ بے وقت کی راگنی‘ اور کلیم الدین احمد اسے’ قابل گردن زدنی‘ قرار دے رہے تھے لیکن اسی دور میں حسرت موہانی ، فانی بدایونی اور اصغر گونڈوی کے ساتھ بہار میں شاد عظیم آبادی اردو غزل کی روایت کا دامن بڑی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کا شماراس دور میں غزل کی نشاۃ الثانیہ کے علمبرداروں میں ہوتا ہے۔
بقول شمس الرحمٰن فاروقی
’’شاد کی اہمیت ادبی بھی ہے اور تاریخی بھی ۔ تاریخی اس معنیٰ میں کہ جب غزل کے اوپر حملے ہو رہے تھے اور چاند ماریاں ہو رہی تھیں اس زمانے میں شاد غزل کے علم کو بلند کیے رہے ۔ادبی بات یہ ہوئی کہ کلاسیکی غزل کے کئی رنگوں کو اختیار کرکے انہیں سچے اور خالص ادب میں پیش کرنا شاد کا کارنامہ ہے۔‘‘
مشہور ناقد کلیم الدین احمد نے انہیں اردو غزل کی تثلیث میں میر اور غالب کے بعد تیسرے شاعر کے طور پر شامل کیا ہے۔
مجنوں گورکھپوری نے انہیں’’ نم آلودگیوں کا شاعر‘‘ کہا ہے ۔
شاد کی غزلوں میں جہاں کلاسیکی رنگ و آہنگ نمایاں ہے وہیں نئے طرز اظہار کے ذریعے انہوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کی شاعری کا خاص وصف زبان کی سادگی اور صفائی ہے ۔ غزل میں واردات قلبی کا بیان بالخصوص عاشقانہ مضامین میں چست بندشیں جذبات کی پاکیزگی، سلاست و نفاست کے ساتھ موجود ہیں۔
اپنی ادا سے آپ جھجکنا، اپنی ہوا سے آپ کھٹکنا
چال میں لغزش ، منہ پہ حیائیں، اف ری جوانی ہائے زمانے
کالی گھٹائیں، باغ میں جھولے، دھانی دوپٹے ، لٹ جھٹکائے
مجھ پہ یہ قدغن آپ نہ آئیں ، اف ری جوانی ہائے زمانے
شاد صوفی شاعر نہ تھے اس کے باوجود ان کی شاعری میں صوفیت و روحانیت کی جلوہ گری موجود ہے
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے
بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
فنا و بقا اور ہستی و نیستی کا فلسفہ شاد کے یہاں مختلف حوالوں سے آتا ہے۔ غور و فکر کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں
کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئی
شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی
میں شاد تنہا اک طرف دنیا کی دنیا اک طرف
سارا سمندر اک طرف آنسو کا قطرہ اک طرف
اس کے باوجود ان کے یہاں مایوسی، ناامیدی اور قنوطیت نہیں بلکہ ایک پرامید رجائی انداز ملتا ہے۔
دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا
دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا
اس رجائی انداز میں بھی جو شیرینی ، گھلاوٹ اور دلکشی ہے وہ لاجواب ہے۔
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کرخود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
شاد نے زندگی کی ناہمواریوں کو بہ نظرغائر دیکھا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں مسرت آفرینی کے ساتھ بصیرت افروزی ہے۔ ایک سوز ہے، کسک ہے۔
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
گرچہ شاد نے آرام وآسائش سے بھرپور زندگی گزاری لیکن
عالم ناپائیدار اور زندگی کی بے ثباتی ہمیشہ پیش نظر رہی ۔ ابتداء و انتہاء کے درمیان حکایت ہستی کا یہ فلسفہ ان کے یہاں کچھ اس انداز میں سامنے آتا ہے۔
سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتداء کی خبر ہے نہ انتہاء معلوم
الغرض نظم ہو یا نثر شاد نے اپنے عہد کے ادبی ، تہذیبی اور سماجی روئیوں اور صالح قدروں کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دبستان عظیم آباد کی تاریخ، ادب اور تہذیب ان کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے۔
یو این آئی۔ ایس وائی۔