Science TechnologyPosted at: Mar 3 2026 7:40PM پیر س معاہدے کے پس منظر میں کاربن کریڈٹس کی منظوری

خصوصی مضمون: ظفر اقبال
اقوام متحدہ کی جانب سے پیرس معاہدے کے تحت قائم کردہ کاربن مارکیٹ میں پہلی بار کاربن کریڈٹس جاری کرنے کی منظوری عالمی ماحولیاتی سفارت کاری میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے یہ پیش رفت نہ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کو نئی سمت دیتی ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا اب محض وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی میکانزم کو فعال بنانے کی طرف گامزن ہے۔گزشتہ چند دہائیوں کے دوران زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔ شدید گرمی کی لہریں، تباہ کن سیلاب، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور سمندری طوفان اب غیر معمولی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک نئی معمول کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس بحران کی بنیادی وجہ گرین ہاؤس گیسوں، خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کا بے تحاشہ اخراج ہے، جو زیادہ تر فوسل فیول کے استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں عالمی برادری نے 2015 میں تاریخی Paris Agreement طے کیا تھا، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سیلسیس سے کم اور ترجیحاً 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنا ہے۔ اس معاہدے نے پہلی بار تقریباً تمام ممالک کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت اپنے قومی سطح پر طے شدہ اہداف (این ڈی سی) پیش کرنے کا پابند کیا۔
پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت ممالک کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ اخراجات میں کمی کے لیے باہمی تعاون اور کاربن کریڈٹس کی تجارت کر سکتے ہیں۔ کاربن کریڈٹ دراصل ایک ایسا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے جو ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ یا اس کے مساوی گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر کوئی ملک یا کمپنی اپنی مقررہ حد سے زیادہ اخراج کر رہی ہو، تو وہ کسی دوسرے ملک میں اخراج کم کرنے والے منصوبے میں سرمایہ کاری کر کے کریڈٹس حاصل کر سکتی ہے۔
یہ نظام نظری طور پر دو بڑے فوائد فراہم کرتا ہے۔ اول، یہ اخراج میں کمی کو معاشی طور پر مؤثر بناتا ہے، کیونکہ بعض ممالک میں اخراج کم کرنا نسبتاً سستا ہوتا ہے۔ دوم، یہ ترقی پذیر ممالک میں ماحول دوست منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا ذریعہ بنتا ہے۔
حالیہ پیش رفت میں اقوام متحدہ نے پیرس معاہدے کے تحت قائم کردہ نئے کریڈٹنگ میکنزم کے ذریعے پہلی بار کاربن کریڈٹس جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ نظام اقوام متحدہ کی نگرانی میں چلایا جا رہا ہے تاکہ شفافیت، احتساب اور اخراج میں حقیقی کمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے نے اعلان کیا کہ پہلا منظور شدہ منصوبہ میانمار میں صاف ستھرا پکانے (Clean Cooking) سے متعلق ہے۔ اس منصوبے کے تحت مؤثر چولہے تقسیم کیے جا رہے ہیں جو لکڑی پر مبنی ایندھن کو زیادہ مؤثر طریقے سے جلاتے ہیں، جس سے کم ایندھن درکار ہوتا ہے اور دھوئیں کا اخراج بھی کم ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ ایک جنوبی کوریائی کمپنی کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے، اور اس سے حاصل ہونے والے کریڈٹس جنوبی کوریا اور میانمار دونوں کے ماحولیاتی اہداف میں شمار ہوں گے۔
دنیا بھر میں دو ارب سے زائد افراد اب بھی روایتی طریقوں سے کھانا پکاتے ہیں، جس میں لکڑی، کوئلہ یا دیگر ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ ان طریقوں سے پیدا ہونے والا دھواں گھریلو فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے، جو سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور قبل از وقت اموات کا سبب بنتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہ سائمن اسٹائل نے اس حوالے سے کہا کہ صاف پکانے سے صحت کی حفاظت ہوتی ہے، جنگلات کا تحفظ ہوتا ہے اور خواتین و لڑکیوں کو بااختیار بناتی ہے، جو عام طور پر گھریلو فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ سماجی اور صحت کے پہلوؤں سے بھی اہم ہے۔اس سے مختلف فوائد حاصل ہوں گے۔
اول: جنگلات کا تحفظ:کم لکڑی کے استعمال سے جنگلات پر دباؤ کم ہوگا۔
دوم: کاربن اخراج میں کمی:ایندھن کی بچت سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوگا
سوم: صحت میں بہتری: گھروں کے اندر دھوئیں میں کمی سے بیماریوں میں کمی آئے گی۔
چہارم: خواتین کو بااختیاربنانا: ایندھن جمع کرنے میں کم وقت صرف ہوگا، جس سے تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع بڑھیں گے۔
تاہم موجودہ رفتار کے مطابق 2030 تک صرف 78 فیصد آبادی کو صاف پکانے تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
کاربن مارکیٹ کے نئے قواعد و ضوابط 2024 میں آذربائیجان میں منعقد ہونے والی COP29 کانفرنس میں طے کیے گئے۔ ان اصولوں کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ کاربن کریڈٹس حقیقی، قابلِ تصدیق اور اضافی اخراج میں کمی کی نمائندگی کریں۔
اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق نئے پیرس ایگریمنٹ کریڈٹنگ میکنزم (پی اے سی ایم) کے تحت اخراجات میں کمی کا حساب پچھلے نظام کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ محتاط انداز میں لگایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کریڈٹس کے اجرا سے پہلے اخراج میں کمی کی تصدیق زیادہ سخت معیارات کے تحت کی جائے گی۔
اگرچہ یہ پیش رفت امید افزا ہے لیکن ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کاربن مارکیٹ کو گرین واشنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گرین واشنگ سے مراد وہ عمل ہے جس میں کمپنیاں یا ممالک اپنے ماحولیاتی اقدامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں یا حقیقی اخراج میں کمی کیے بغیر خود کو ماحول دوست ظاہر کرتے ہیں۔
بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم Greenpeace (گرین پیس) نے COP29 کے بعد کہا تھا کہ نئے معاہدے میں ایسے خلا موجود ہیں جو فوسل فیول کمپنیوں کو آلودگی جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بنیادی سطح پر فوسل فیول کے استعمال میں کمی نہ کی گئی تو محض کریڈٹس کی تجارت سے موسمیاتی بحران حل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب کئی ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام مکمل نہیں، لیکن یہ کاربن کریڈٹس کے عالمی ضابطے میں وضاحت فراہم کرتا ہے۔ پہلے کے رضاکارانہ کاربن مارکیٹس میں شفافیت اور معیار کے حوالے سے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ نئے نظام کے تحت اقوام متحدہ کی نگرانی میں منصوبوں کی منظوری اور تصدیق کا عمل زیادہ منظم اور قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مالی وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر کاربن مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کا بہاؤ بڑھتا ہے تو یہ قابلِ تجدید توانائی، جنگلات کے تحفظ اور صاف ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد دے سکتا ہے۔
کاربن مارکیٹ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک، جو تاریخی طور پر زیادہ اخراج کے ذمہ دار ہیں، ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے اہداف پورے کر سکتے ہیں۔ اس سے ایک طرح کی موسمیاتی سفارت کاری جنم لیتی ہے، جہاں اخراج میں کمی مالی لین دین سے منسلک ہو جاتی ہے۔
تاہم اس میں طاقت کے عدم توازن کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اگر قواعد شفاف نہ ہوں تو کمزور معیشتیں سستے کریڈٹس فراہم کرنے والے مراکز بن سکتی ہیں، جبکہ اصل اخراج کرنے والے ممالک اپنی صنعتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے پیرس معاہدے کے تحت کاربن مارکیٹ میں پہلی بار کریڈٹس کے اجرا کی منظوری موسمیاتی حکمرانی کے ارتقا کی علامت ہے۔ میانمار میں صاف پکانے کا منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک ماحولیاتی اقدام صحت، جنگلات کے تحفظ اور خواتین کی بااختیاری جیسے وسیع تر سماجی فوائد بھی فراہم کر سکتا ہے۔
تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس کی شفافیت، سخت معیارات اور سیاسی عزم پر ہوگا۔ اگر کاربن مارکیٹ کو مؤثر نگرانی اور جوابدہی کے ساتھ چلایا گیا تو یہ عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول میں ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، گرین واشنگ اور سطحی اقدامات کے باعث یہ اعتماد کے بحران کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔
دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، اور وقت محدود ہے۔ ایسے میں پیرس معاہدے کے تحت قائم کاربن مارکیٹ جیسے اقدامات امید کی کرن تو فراہم کرتے ہیں، مگر اصل امتحان ان کے عملی نفاذ اور حقیقی نتائج میں پوشیدہ ہے۔ اگر عالمی برادری سنجیدگی، دیانت داری اور تعاون کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھی تو یہ نظام نہ صرف اخراج میں کمی بلکہ زیادہ منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔(یواین آئی)
٭٭٭