NationalPosted at: Aug 5 2026 3:14PM آرٹیکل 370 کے خاتمے کے سات سال مکمل، پی ایم مودی کی ستائش، کہا: جموں و کشمیر اور لداخ ترقی کے نئے دور میں داخل ہوئے

نئی دہلی، 05 اگست (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کہا کہ سات سال قبل آرٹیکل 370 اور 35 (اے) کا خاتمہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے ایک "فیصلہ کن نیا باب" لے کر آیا انہوں نے زور دے کر کہا کہ 05 اگست 2019 کے تاریخی فیصلے کے بعد سے مرکز کے زیرِ انتظام دونوں علاقوں میں اہم ترقی ہوئی ہے ،وہاں وسیع تر مواقع پیداہوئے ہیں اور وہ آئینی اعتبار سے بااختیارہوئے ہیں ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ خصوصی درجے کی دفعات کی منسوخی نے آئینِ ہند کے مکمل نفاذ کو یقینی بنا کر اور متعدد شعبوں میں مواقع کو وسعت دے کر عوام کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔
مسٹر مودی نے لکھا، "سات سال قبل، آج کے دن آرٹیکل 370 اور 35 (اے) تاریخ کا حصہ بن گئے تھے، جس نے جموں و کشمیر اور لداخ کے سفر میں ایک فیصلہ کن نئے باب کا آغاز کیا تھا۔"
گزشتہ سات سال کے دوران خطے میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال،انٹرپرینیورشپ) اور کھیلوں کے شعبوں میں مواقع میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، "اس کے بعد سے، جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کی زندگیوں میں ہمہ گیر تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو وسعت ملی ہے، تعلیم، صحت عامہ، کاروبار اور کھیلوں جیسے شعبوں میں مواقع بڑھے ہیں۔"
مسٹر مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں تمام آئینی دفعات کی توسیع نے خواتین اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنایا ہے، جو دہائیوں سے کئی آئینی حقوق سے محروم تھے۔
انہوں نے کہا، "خواتین ہوں یا پسماندہ طبقات، جنہیں دہائیوں سے ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا تھا، آئینِ ہند کے مکمل نفاذ کی بدولت انہیں بااختیار بنایا گیا ہے۔"
وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال کی سالگرہ اس لحاظ سے مزید اہم ہے کیونکہ ہندوستان ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا 125 واں یوام پیدائش منا رہا ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے باقی ملک کے ساتھ مکمل انضمام کے لیے ان کی جدوجہد کو یاد کیا۔
مسٹر مودی نے کہا، "اس سال 5 اگست کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ وہ سال ہے جب ہمارا ملک ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا 125 واں یومِ پیدائش منا رہا ہے۔ قومی یکجہتی کے لیے ان کی تاحیات عہد بستگی آنے والی نسلوں کو تحریک دیتی رہے گی۔ دہائیوں قبل انہوں نے جس تصور کا خواب دیکھا تھا، وہ 5 اگست 2019 کو تاریخی طور پر پورا ہوا۔"
جموں و کشمیر اور لداخ کی مسلسل ترقی کے لیے مرکز کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر شہری کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے اور وکست بھارت کے وژن میں اپنا تعاون دینے کا موقع ملے۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ لداخ کی ترقی اور یہ یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہر شہری کو بڑے خواب دیکھنے، انہیں حاصل کرنے اور وکست بھارت کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ملے۔"
قابلِ ذکر ہے کہ 05 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کی دفعات کو منسوخ کر کے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کا خصوصی آئینی درجہ ختم کر دیا تھا، جبکہ آرٹیکل 35 (اے) کو غیر فعال کر دیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 بھی منظور کیا تھا، جس کے تحت سابقہ ریاست کو دو مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے سب سے اہم آئینی اور سیاسی اقدامات میں سے ایک ہے۔
یو این آئی ۔ایف اے