Monday, Dec 8 2025 | Time 13:10 Hrs(IST)
National

جنوبی ایشیا میں سرحدپار دہشت گردی کا ایک نیا محورباعث تشویش

جنوبی ایشیا میں سرحدپار دہشت گردی کا ایک نیا محورباعث تشویش

یو این آئی تجزیہ-از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 17 نومبر (یو این آئی) گزشتہ ہفتے دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب مصروف بازار میں ہونے والا دھماکہ ہندوستان میں ماضی میں ہوئے کئی دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا، تاہم بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسے ایک بڑا واقعہ قراردیا جا سکتا ہے جس کے ہندوستان کے سکیورٹی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ہندوستانی تفتیش کاروں کا اب یہ ماننا ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے پاکستان میں قائم دہشت گرد گروہوں اور بنگلہ دیش میں موجود انتہا پسند نیٹ ورکس کے درمیان بڑھتا ہوا باہمی تعاون کار فرما تھا۔ انٹیلی جنس افسران اس سرحد پار دہشت گردانہ سرگرمیوں کے محور کو جنوبی ایشیا
میں " گرے زون جنگ کانیا میدان" مبہم یا درپردہ جنگ کامیدان قرار دے رہے ہیں۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے وہ کوئی ایک تنظیم یا ماسٹر مائنڈ نہیں بلکہ دہشت گرد گروہوں، لاجسٹک مراکز، محفوظ ٹھکانوں اور نظریاتی وابستگی کا ایک جال ہے جو برصغیر کے مشرقی اور مغربی سرحدی علاقوں کے دونوں طرف پھیلا ہوا ہے۔ "
اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسے شروع میں ہی کچل نہ دیا گیا تو یہ خفیہ جنگ کا مستقبل بن سکتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان نے اب تک انتہائی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی ملک کا نام لے کر اسے ذمہ دار قرار نہیں دیا، مگر حکام نے اشارہ دیا کہ تفتیش جاری ہے۔ ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر اور ماریشس کےلیے سابق قومی سلامتی مشیر شانتنو مکھرجی نے کہا "ہندوستان کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ان حملوں کے رابطے ہماری سرحدوں سے باہر بھی ہو سکتے ہیں اور انہیں ابتدائی مرحلے میں ہی ختم کر دینا چاہیے،" ۔
ہندوستان کی انٹیلی جنس کمیونٹی کے مطابق لال قلعہ دھماکے سے چند دن قبل لشکر طیبہ کے کمانڈر سیف اللہ سیف نے 30 اکتوبر کو پاکستان کے خیرپور ٹامیوالی میں ایک ریلی میں دعویٰ کیا تھا کہ تنظیم کا سربراہ حافظ سعید مشرقی پاکستان سے کارروائی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں ایک مذہبی پروگرام میں پاکستانی دہشت گرد گروہوں کے عہدیدار اور حماس کے رہنما ڈھاکہ پہنچے تھے۔
بنگلہ دیش نے طلبہ تحریک کے ذریعے ڈھاکہ میں حکومت کی تبدیلی کے بعد دہشت گردی یا دہشت گردی کی فنڈنگ کے الزام میں گرفتار تمام افراد کو جیلوں سے رہا کر دیا تھا۔ ہندوستانی تجزیہ کاروں کو کافی عرصے سے ان خبروں پر تشویش تھی کہ انصار البنگلہ (اے بی ٹی)، جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش (حوجی۔بی ) اور حزب التحریر جیسے گروہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ خطرہ اس بات کا ہے کہ کیا یہ گروہ پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد ماڈیولز کے ساتھ مل کرہندوستان اور دیگر
ممالک کے خلاف آپریشنز شروع کر دیں گے؟ اطلاعات ہیں کہ جماعت روہنگیا مہاجر کیمپوں (رامو اور کاکس بازار) میں موجود روہنگیا نوجوانوں کو اراکان میں دہشت گرد حملوں کے لیے تربیت دے رہی ہے۔ انڈیا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اور معروف جنوبی ایشیائی سکیورٹی تجزیہ کار آلوک بنسل نے کہا "علاقے میں نئے محفوظ ٹھکانے ابھر رہے ہیں جہاں سے دہشت گرد ماڈیولز کام کر سکتے ہیں اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرسکتے ہیں۔ ہمیں جنوبی ایشیا میں ڈی ریڈیکلائزیشن کے لیے ایک جوابی بیانیہ تیار کرنے کی ضرورت ہے"۔
رواں سال کے آغاز سے آئی ایس آئی کی کئی ٹیمیں بنگلہ دیش کا دورہ کر چکی ہیں اور پاکستانی خفیہ ایجنسی، جو پاکستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کو چلاتی ہے، ڈھاکہ میں اپنی موجودگی بڑھا چکی ہے۔ ہندوستانی حکام کا خیال ہے کہ ان دوروں اور ڈھاکہ میں آپریشنل مضبوطی کا مقصد بنگلہ دیش کی سیاسی بدامنی کا فائدہ اٹھانا، مغربی بنگال اور آسام جیسی سرحدی ریاستوں میں محفوظ ٹھکانوں کا استعمال کرنا اور ہندوستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہم آہنگ آپریشنز کرنا ہے۔
اگرچہ لال قلعہ دھماکے نے توجہ مرکوز کر دی ہے، لیکن یہ رجحان کئی دہائیوں پرانا ہے۔ 2014 میں مغربی بنگال کے بردوان دھماکوں کے پیچھے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے سیل تھے، جس نے جے ایم بی کا ایک وسیع نیٹ ورک بے نقاب کیا تھا جو ہندوستانی کارندو کو تربیت دے رہا تھا اور بڑے شہروں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اے بی ٹی کے ارکان کو ہندوستان میں اغوا کی سازشوں، دھماکوں کی کوششوں اور بڑے شہروں میں ریکی مشن کے الزام میں بار بار گرفتار کیا گیا ہے۔ 2009 سے 2023 تک ہندوستانی ایجنسیوں نے شیخ حسینہ کی زیر قیادت بنگلہ دیش حکومت کے ساتھ مل کر، جو دہشت گردی کوقطعی برداشت نہ کرنےکی پالیسی پر عمل پیرا تھیں ، آسام، تریپورہ اور بنگال میں کئی ماڈیولز کو ناکام بنایا — جو سب سرحد پار ہینڈلرز کو رپورٹ کر رہے تھے۔
دونوں ملکوں کے درمیان جغرافیہ کی کافی اہمیت ہے۔ ہندوستان ۔بنگلہ دیش سرحد، جو ہندوستان کی کسی بھی پڑوسی کے ساتھ سب سے طویل زمینی سرحد ہے، باوجود برسوں کے باڑ لگانے کے عمل کے اب بھی یہ غیر محفوظ ہے۔ سرحدی گاؤں میں نسلی، مذہبی اور خاندانی رشتے کافی گہرے ہیں، جودراندازی کے لیے آسان پردہ فراہم کرتے ہیں۔ مویشی اور صارفی اشیا کی اسمگلنگ کرنے والے نیٹ ورکس ہمیشہ دھماکہ خیز مواد اور نظریہ کی ترسیل کا کام کر سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی حکمت عملی بنانے والوں کے لیے یہ خطہ اسٹریٹجک گہرائی فراہم کرتا ہے۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی پاکستان میں قائم تنظیمیں مغربی سرحد پر نگرانی سخت ہونے پر بھی بنگلہ دیش کے راستے لاجسٹکس اور نقل و حرکت آؤٹ سورس کر سکتی ہیں۔ ہندوستان کاسکیورٹی ادارہ اس خطرے کو اب گرے زون وارفیئر قرار دے رہا ہے — ایسی سرگرمی جو روایتی جنگ نہیں قراردی جاسکتی مگر ریاستی ڈھانچے کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے۔ اس طرح کے حربوں کا انحصار عام طور پر قابل تردید عناصر ، غیر رسمی سرحدی معیشتوں اور سرحد کے دوسری طرف سیاسی انتشار پرہوتاہے ۔ حالانکہ بنگلہ دیش نے ماضی میں دہشت گردی کے خاتمے میں ہندوستان سے قریبی تعاون کیا تھا، ہندوستانی حکام کو تشویش ہے کہ انتہا پسند گروہ گورننس کے خلا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بعض صورتوں میں بیوروکریسی میں ہمدرد بھی تلاش کر رہے ہیں۔
ہندوستان اس ہفتے نئی دہلی میں ہونے والے کولمبو سکیورٹی کانکلیو (سی ایس سی) کے موقع پرہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور ان کے بنگلہ دیشی ہم منصب خلیل الرحمٰن کے درمیان مجوزہ ملاقات کے ذریعے سفارتی پیش رفت پر غور کر رہی ہے۔ حکام اسے ڈھاکہ میں انتہائی غیر مستحکم صورتحال کے دوران دہشت گردی کے خلاف تعاون بحال کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ گرے زون کی کارروائی جاری رہتی ہے تو ہندوستان کو دو محاذوں پرایسے دہشت گرد ایکو سسٹم کاسامنا کرناپڑ سکتا ہے جوچالاک، لا مرکزی اور سرحدی کمیونٹیزکے ساتھ جسکی وابستگی گہرائی تک ہو۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لال قلعہ دھماکہ ،اکادکا دراندازی سے زیادہ ہم آہنگ، کثیر ریاستی نیٹ ورکس کی طرف تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے

خاص خبریں
حیدرآبادمیں انڈیگو کے طیاروں کا بحران جاری، کئی فلائٹس منسوخ

حیدرآبادمیں انڈیگو کے طیاروں کا بحران جاری، کئی فلائٹس منسوخ

حیدرآباد8 دسمبر(یواین آئی) انڈیگو میں بحران مسلسل جاری ہے اور مسلسل ساتویں دن بھی کئی فلائٹس منسوخ کی گئی ہیں۔

...مزید دیکھیں
شیئر بازار: ابتدائی کاروبار میں گراوٹ

شیئر بازار: ابتدائی کاروبار میں گراوٹ

ممبئی، 08 دسمبر (یو این آئی) گھریلو شیئر بازاروں میں پیر کے روز ابتدائی کاروبار میں گراوٹ درج کی گئی۔

...مزید دیکھیں
کشمیر میں سردیوں کا زور تیز، سری نگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ

کشمیر میں سردیوں کا زور تیز، سری نگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ

سری نگر، 8 دسمبر (یو این آئی) وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت مسلسل نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے کے باعث لوگوں کو ٹھٹھرتی سردیوں سے کوئی راحت نصیب نہیں ہو رہی ہے۔

...مزید دیکھیں
سری نگر کے منور آباد علاقے میں شبانہ آگ، مینوفیکچرنگ یونٹ اور 12 دکانیں خاکستر

سری نگر کے منور آباد علاقے میں شبانہ آگ، مینوفیکچرنگ یونٹ اور 12 دکانیں خاکستر

سری نگر، 8دسمبر(یو این آئی) شہر کے منور آباد علاقے میں گزشتہ شب اچانک بھڑک اُٹھی آگ نے ایک مینوفیکچرنگ یونٹ اور کم از کم بارہ دکانوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔

...مزید دیکھیں
سو کروڑ کے کلب میں شامل ہوئی رنویر سنگھ کی فلم 'دھُرندھر'

سو کروڑ کے کلب میں شامل ہوئی رنویر سنگھ کی فلم 'دھُرندھر'

ممبئی، 8 دسمبر (یو این آئی) بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم 'دھُرندھر' نے ہندستانی مارکیٹ میں تین دنوں میں 103 کروڑ روپے کی کمائی کر لی ہے۔

...مزید دیکھیں

عرب لیگ نے سوڈان کے جنوبی کردفان میں ڈرون حملے کی مذمت کی

قاہرہ، 8 دسمبر (یو این آئی) عرب لیگ نے اتوار کو سوڈان کی ریاست جنوبی کردفان کے شہر کالوگی میں شہریوں کے قتل کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

...مزید دیکھیں
گوا آتشزدگی پر صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس، راحت کی رقم کا اعلان

گوا آتشزدگی پر صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس، راحت کی رقم کا اعلان

نئی دہلی، 7 دسمبر (یو این آئی) صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے گوا کے ارپورا میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعے پر اتوار کے روز گہرے رنج و غم ظاہر کیا۔

...مزید دیکھیں
یواین آئی۔ م س." /> یواین آئی۔ م س." />

تازہ سرحدی جھڑپ میں تھائی فوجی ہلاک

08 Dec 2025 | 12:33 PM

بنکاک، 8 دسمبر (یو این آئی) کمبوڈیا کے ساتھ تھائی لینڈ کی متنازع سرحد پر ہوئی جھڑپ میں ایک تھائی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ آسیان کے دو ممبران جن کی طویل سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، ان کے درمیان ابھرتے ہوئے تنازعہ نے ایک بار پھر تناؤ کو بڑھا دیا ہے، یہ تنازعہ دونوں ممالک کے مابین مہینوں سے چل رہا ہے۔.

تاریخ میں آج کا دن

08 Dec 2025 | 8:50 AM

(9 دسمبر کی اشاعت کے لئے جاری)نئی دہلی، 8 دسمبر (یو این آئی) ہندوستان اور عالمی تاریخ میں 9 دسمبر کے اہم واقعات میں شامل ہیں: .

پرسنا کرماکر تین آخری

08 Dec 2025 | 12:40 PM

بہت سے کھلاڑیوں میں جنہوں نے دہلی میں تاریخ رقم کی، پرسنتا کرماکر بھی شامل تھے۔ آج تک، کرماکر کا 50 میٹر فری اسٹائل میں جیتا گیا کانسے کا تمغہ ہندوستان کا کامن ویلتھ گیمز میں تیراکی کا واحد تمغہ ہے۔ ان کی پیدائش8 دسمبر 1980 میں کلکتہ، مغربی بنگال میں ہوئی۔ .

پَوِتر شہر مُلتائی میں ترقیاتی کام تعطل کا شکار، عقیدت مندوں میں شدید غصہ

08 Dec 2025 | 12:51 PM

بیتول، 08 دسمبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے مُلتائی کو ’’پَوِتر نگری‘‘ کا درجہ ملے ہوئے ایک سال گزر چکا ہے لیکن اس دوران مطلوبہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ نگر پالیکا پریشد مُلتائی کی طرف سے مختلف محکموں کو بھیجی گئی تجاویز اور خطوط پر نہ تو کوئی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سطح سے کوئی جواب ملا ہے۔ محکموں کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے طویل عرصے سے تعطل کا شکار ان کاموں کے سلسلے میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ عقیدت مندوں میں بھی ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ .